کوئیؔ قوت پیدا کرسکے یا کوئی ذرّہ اجسام بناسکے یا کوئی علم غیب اپنی شناخت کے لئے اپنی کتاب میں بیان کرسکے یا دلوں کو تسلی دینے کے لئے اپنا کوئی معجزہ دکھلا سکے تو پھر یہ کہنا کہ اُس کا کوئی قانونِ قدرت ہے سراسر لغو اور بے معنی بات ہے۔ قانون کا مرتب کرنا قدرت کے بعد ہے اور جب قدرت ہی نہیں تو یہ کہنا چاہیئے کہ قانون عجز او ر بے قدرتی۔ نہ کہ قانون قدرت ۔وہ پرمیشر جو مکتی دائمی نہیں دے سکتا اور کسی کا گنہ نہیں بخش سکتا اور اپنی ہستی ثابت کرنے کے لئے کوئی قدرت کا نمونہ دکھلا نہیں سکتا اس کی نسبت قانون قدرت کو کیونکر منسوب کرسکتے ہیں۔
پھرمضمون خواں نے بیان کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا اپنے قانون کو بدل سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کیا وہ اپنے صفات کو بھی بدل سکتا ہے۔ اب غور کرنا چاہیئے کہ یہ کیسا بیہودہ جواب ہے یہ تو سچ ہے کہ جیسا کہ خدا غیر متبدل ہے اس کی صفات بھی غیر متبدّل ہیں اس سے کس کو انکار ہے مگر آج تک اُس کے کاموں کی حد بست کس نے کی ہے۔ اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اس کی عمیق درعمیق اور بے حد قدرتوں کی انتہا تک پہنچ گیا ہے بلکہ اُس کی قدرتیں غیر محدود ہیں اور اس کے عجائب کام ناپیدا کنار ہیں اور وہ اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے مگر وہ بدلنا بھی اُس کے قانون میں ہی داخل ہے جب ایک شخص اُس کے آستانہ پر ایک نئی روح لے کر حاضر ہوتا ہے اور اپنے اندر ایک خاص تبدیلی محض اس کی رضامندی کے لئے پیدا کرتا ہے تب خدا بھی اس کے لئے ایک تبدیلی پیدا کر لیتا ہے کہ گویا اس بندے پر جو خدا ظاہر ہوا ہے وہ اور ہی خدا ہے۔ نہ وہ خدا جس کو عام لوگ جانتے ہیں۔ وہ ایسے آدمی کے مقابل پر جس کا ایمان کمزور ہے کمزور کی طرح ظاہر ہوتا ہے لیکن جو اس کی جنا ب میں ایک نہایت قوی ایمان کے ساتھ آتا ہے وہ اُس کو دکھلا دیتا ہے کہ تیری مدد کے لئے میں بھی قوی ہوں۔ اس طرح انسانی تبدیلیوں کے مقابل پر اس کی صفات میں بھی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جو شخص ایمانی حالت میں ایسا مفقود الطاقت ہے کہ گویا میّت ہے خدا بھی اس کی تائید اور نصرت سے دستکش ہوکر ایسا خاموش ہو جاتا ہے کہ گویا نعوذ باللہ وہ مرگیا ہے۔ مگر یہ تمام تبدیلیاں وہ اپنے قانون کے اندر اپنے تقدس کے موافق