کےؔ قواعد کلیہ کے ساتھ تطبیق دی ہے اور یہ تطبیق ایک ایسی لطیف ہے جو صدہا معارف اور حقائق کے کھلنے کا دروازہ ہے اور سچی اورکامل تفسیرقرآن شریف کی وہی شخص کرسکتا ہے جو طبِّ جسمانی کے قواعد کلیہ پیش نظر رکھ کر قرآن شریف کے بیان کردہ قواعد میں نظر ڈالتا ہے ایک دفعہ مجھے بعض محقق اور حاذق طبیبوں کی بعض کتابیں کشفی رنگ میں دکھلائی گئیں جو طبِّ جسمانی کے قواعد کلیہ اور اصول علمیہ اور ستّہ ضروریہ وغیرہ کی بحث پر مشتمل اور متضمن تھیں جن میں طبیب حاذق قرشی کی کتاب بھی تھی اور اشارہ کیا گیا کہ یہی تفسیر قرآن ہے اس سے معلوم ہوا کہ عِلْمُالاَبْدَاناور عِلْمُ الاَدْیان میں نہایت گہرے اورعمیق تعلقات ہیں اور ایک دوسرے کے مصدّق ہیں اور جب میں نے اُن کتابوں کو پیش نظر رکھ کر جو طب جسمانی کی کتابیں تھیں قرآن شریف پر نظر ڈالی تو وہ عمیق در عمیق طبِّ جسمانی کے قواعد کلیہ کی باتیں نہایت بلیغ پیرایہ میں قرآن شریف میں موجود پائیں اور اگر خدا نے چاہا اور زندگی نے وفا کی تو میرا ارادہ ہے کہ قرآن شریف کی ایک تفسیر لکھ کر اس جسمانی اورروحانی تطابق کو دکھلاؤں۔
غرض آسمان کے نیچے کوئی دوسری کتاب نہیں پائی جاتی کہ جو طبِّ جسمانی اور طبِّ روحانی میں اس قدر تطابق دکھلاکر قانون قدرت کے معیار کو اپنی پیروی کرنے والوں کے ہاتھ میں دیدے۔ اس لئے میں پورے یقین سے سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کے مقابل پر تمام دوسرے مذاہب ہلاک شدہ ہیں۔ وہ مُنہ سے تو کہہ دیتے ہیں کہ الہامی کتاب کے لئے ضروری شرط یہ ہے کہ وہ قانون قدرت کے مطابق ہو مگر مطابق کرکے دکھلاتے نہیں اور اُن کو یہ بھی سمجھ نہیں کہ قانون قدرت کے آلہ کو استعمال کرنے کے لئے طریق کیا ہے۔ وہ خدا کے قانون قدرت کو مروڑ توڑ کر اپنے مسلّمہ عقائد کے مطابق کرنا چاہتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ درحقیقت وہ مطابق بھی ہیں یا نہیں۔
اور پھر مجھے یہ تعجب ہے کہ آریہ صاحبان قانون قدرت کا ذکر ہی کیوں کرتے ہیں۔ کیونکہ جس حالت میں اُن کے پرمیشر میں یہ قدرت ہی نہیں کہ ایک روح بناسکے یا کسی روح میں