مگر یہ جسمانی اور روحانی تطابق قانون قدرت کا قرآن شریف نے دکھلا دیا جیسا کہ وہ ؔ فرماتا ہے۔3333 ۱؂ (الجزونمبر۳۰ سورۃ الطارق) یعنی قسم ہے آسمان کی جس سے مینہ نازل ہوتا ہے اور قسم ہے زمین کی جو پھوٹ کر اناج نکالتی ہے۔ یہ کلام یعنی قرآن شریف حق اور باطل میں فیصلہ کرنے والا ہے اور بے فائدہ نہیں یعنی اس کلام کی ایسی ہی ضرورت ثابت ہے جیسا کہ جسمانی نظام میں مینہ کی ضرورت ثابت ہے۔ اگر مینہ نہ ہو تو آخر کارکنویں بھی خشک ہو جاتے ہیں اور دریا بھی اور پھر نہ پینے کے لئے پانی رہتا ہے اور نہ کھانے کے لئے اناج۔ کیونکہ ہر ایک برکت زمین کی آسمان سے ہی نازل ہوتی ہے۔ اِس دلیل سے خدا نے ثابت کیا ہے کہ جیسا کہ پانی اوراناج کی ہمیشہ ضرورت ہے ایسا ہی خدا کی کلام اور اس کے تسلی دینے والے معجزات کی ہمیشہ ضرورت ہے۔ کیونکہ محض گزشتہ قصوں سے تسلی نہیں ہوسکتی۔ پس آریہ صاحبوں کو سمجھنا چاہیئے کہ محض وید کے ورق چاٹنے سے نہ روحانی پیاس دور ہوسکتی ہے اور نہ وہ تسلی مل سکتی ہے جو خدا کے تازہ بتازہ معجزات سے ملتی ہے اور آیت ممدوحہ بالا میں جو خدا نے قسم کھائی پس جاننا چاہیئے کہ خدا کی قسمیں انسان کی قسموں کی طرح نہیں ہیں بلکہ عادت اللہ اس طرح واقعہ ہوئی ہے کہ وہ قرآن شریف میں قسم کھاکر جسمانی نظام کو روحانی نظام کی تصدیق میں پیش کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قسم شہادت کی قائم مقام وضع کی گئی ہے۔ پس اس جگہ خدا کی کلام میں جسمانی امور کی قسم کھانے سے اشارہ یہ ہے کہ جو قسم کے بعد روحانی امور بیان کئے گئے ہیں جسمانی اُمور ان کی سچائی کے گواہ ہیں۔ پس جس جگہ تم قرآن شریف میں اس طور کی قسمیں پاؤگے ہر ایک جگہ اُن قسموں سے یہی مراد ہے کہ خدا تعالیٰ اول جسمانی امور پیش کرکے ان امور کو روحانی امور کے لئے جو بعد میں لکھتا ہے بطور گواہ کے پیش کرتا ہے مگر افسوس ہمارے نادان اور اندھے مخالف اپنی جہالت سے قرآن شریف کی ان قسموں پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف ایک ایسی پُرحکمت کتاب ہے جس نے طبِّ رُوحانی کے قواعد کلیہ کو یعنی دین کے اصول کو جو دراصل طبِّ رُوحانی ہے طبِّ جسمانی