سے مرادیں مانگتا ہے بلکہ صرف خدا کا قراردادہ ایک جسمانی نمونہ سمجھا جاتا ہے وبس۔ جس طرح ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں مگر وہ سجدہ زمین کے لئے نہیں ایسا ہی ہم حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں مگر وہؔ بوسہ اس پتھر کے لئے نہیں پتھر تو پتھر ہے جو نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے نہ نقصان۔ مگر اُس محبوب کے ہاتھ کا ہے جس نے اُس کو اپنے آستانہ کا نمونہ ٹھہرایا۔
پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ بیان کیا کہ جس کتاب میں قانونِ قدرت کے برخلاف تعلیم ہو وہ کتاب الہامی نہیں ہوسکتی۔ اس تقریر سے اُس نے وید پر حملہ کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل وہ وید پر ایمان نہیں رکھتا کیونکہ اگر درحقیقت الہامی کتاب کے لئے یہی شرط ہے جو اُس نے بیان کی ہے تو اس شرط کو ہرگز وید نے پورا نہیں کیا۔ کیونکہ وید خدا کے قانون قدرت سے ہرایک پہلو میں مخالف ہے مثلاً وید آئندہ زمانہ کے لئے جو وید کے بعد زمانہ ہے یہ اقرار نہیں کرتا کہ خدا کے الہام کا سلسلہ جاری ہے حالانکہ قانون قدرت شہادت دیتا ہے کہ ضرور الہام کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہنا چاہیئے وجہ یہ کہ قانون قدرت کی رُو سے خدا تعالیٰ کے نظام جسمانی اور رُوحانی میں تطابق پایا جانا ضروری ہے تا وہ تطابق اس بات پر دلالت کرے کہ ان دونوں نظاموں کا بنا نے والا ایک خدا ہے مگر الہام کو صرف ایک خاص زمانہ تک ختم کرکے تطابق باقی نہیں رہتا کیونکہ اِس بات سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا کہ جسمانی ضرورتوں کے لئے ہمیشہ خدا نے اپنے فیضان کا دروازہ کھلا رکھا ہے چنانچہ بھوک کے لئے اِس زمانہ میں بھی اناج موجود ہے جیسا کہ پہلے موجود تھا اور پیا س کے لئے اب بھی آسمان سے پانی برستا ہے جیسا کہ پہلے برستا تھا جس سے زمینی پانی دریاؤں اورکنووں کے بکثرت ہوجاتے ہیں پھر روحانی حاجتوں کا کیوں دروازہ بند کیا گیا۔ کیا روحانی پیاسوں کو اب اس پانی کی ضرورت نہیں ہے جو روحانی طور پر سیراب کرتا ہے یعنی کیا اب اس بات کی حاجت نہیں کہ نوع انسان خدا کے تازہ بتازہ نشانوں اورمعجزات کے ذریعہ سے شکوک و شبہات سے نجات پاکر اور یقین کے مرتبہ تک پہنچ کر پوری تسلی پاویں۔ کیا یہی وید ودّیا پیش کی جاتی ہے کہ جسمانی حاجات کے پورا کرنے کا تو اب تک خدا نے دروازہ بند نہیں کیا مگر روحانی حاجات کے پورا کرنے کا دروازہ بند کردیا ہے۔ غرض وید تو اس جگہ تطابق دکھلانے سے رہ گیا۔