روح کا پیدا کرنے والا ہے ایسا ہی وہ جسم کا بھی پیدا کرنے والا ہے اوردونوں پر اُس کا حق خالقیت ہے ماسوا اس کے جسم اور رُوح ایک دوسرے کی تاثیر قبول کرتے ہیں بعض وقت جسمؔ کا سجدہ رُوح کے سجدہ کا محرک ہو جاتا ہے اور بعض وقت روح کا سجدہ جسم میں سجدہ کی حالت پیدا کر دیتا ہے کیونکہ جسم اور رُوح دونوں باہم مرایا متقابلہ کی طرح ہیں۔ مثلاً ایک شخص جب محض تکلف سے اپنے جسم میں ہنسنے کی صورت بناتا ہے تو بسا اوقات وہ سچی ہنسی بھی آجاتی ہے کہ جو رُوح کے انبساط سے متعلق ہے ایسا ہی جب ایک شخص تکلف سے اپنے جسم میں یعنی آنکھوں میں ایک رونے کی صورت بناتا ہے تو بسا اوقات حقیقت میں رونا ہی آجاتا ہے جو رُوح کی درد اوررقت سے متعلق ہے۔ پس جبکہ یہ ثابت ہوچکا کہ عبادت کی اس قسم میں جو تذلل اور انکسار ہے جسمانی افعال کا رُوح پراثر پڑتا ہے اورروحانی افعال کا جسم پر اثر پڑتا ہے۔ پس ایسا ہی عبادت کی دوسری قسم میں بھی جو محبت اور ایثار ہے انہیں تاثیرات کا جسم اوررُوح میں عوض معاوضہ ہے۔ محبت کے عالم میں انسانی روح ہر وقت اپنے محبوب کے گرد گھومتی ہے اور اس کے آستانہ کو بوسہ دیتی ہے۔ ایسا ہی خانہ کعبہ جسمانی طور پر محبان صادق کے لئے ایک نمونہ دیا گیا ہے اور خدا نے فرمایا کہ دیکھو یہ میرا گھر ہے اور یہ حجرِ اسود میرے آستانہ کا پتھر* ہے اور ایسا حکم اِس لئے دیا کہ تا انسان جسمانی طور پر اپنے ولولہ عشق اور محبت کو ظاہر کردے سو حج کرنے والے حج کے مقام میں جسمانی طور پر اُس گھر کے گرد گھومتے ہیں ایسی صورتیں بناکر کہ گویا خدا کی محبت میں دیوانہ اور مست ہیں۔زینت دُور کردیتے ہیں سر منڈوا دیتے ہیں اور مجذوبوں کی شکل بناکراس کے گھر کے گرد عاشقانہ طواف کرتے ہیں اور اس پتھر کو خدا کے آستانہ کا پتھر تصور کرکے بوسہ دیتے ہیں اور یہ جسمانی ولولہ رُوحانی تپش اور محبت کو پیدا کر دیتا ہے اور جسم اس گھر کے گرد طواف کرتا ہے اور سنگ آستانہ کو چومتا ہے اور رُوح اُس وقت محبوب حقیقی کے گرد طواف کرتی ہے اور اس کے رُوحانی آستانہ کو چومتی ہے اور اس طریق میں کوئی شرک نہیں ایک دوست ایک دوست جانی کا خط پاکر بھی اُس کو چومتا ہے کوئی مسلمان خانہ کعبہ کی پرستش نہیں کرتا اور نہ حجر اسود
*حاشیہ۔ خدا کا آستانہ مصدر فیوض ہے یعنی اسی کے آستانہ سے ہریک فیض ملتا ہے پس اسی کے لئے معبّرینلکھتے ہیں کہ اگر کوئی خواب میں حجر اسود کو بوسہ دے تو علوم روحانیہ اس کو حاصل ہوتے ہیں کیونکہ حجر اسود سے مراد منبعِ علم و فیض ہے ۔ منہ