اناؔ فتحنا لک فتحًا مبینًا ۔ لیغفرلک اللّٰہ ما تقدّم من ذنبک
میں ایک عظیم فتح تجھ کو عطا کروں گا جو کھلی کھلی فتح ہوگی تاکہ تیرا خدا تیرے تمام گناہ بخش دے جو پہلے ہیں
وما تأخّر۔* انّی انا التوّاب ۔ من جآء ک جآء نی ۔ سلام
اور پچھلے ہیں۔ مَیں توبہ قبول کرنیوالا ہوں۔ جو شخص تیرے پاس آئیگا وہ گویا میرے پاس آئیگا۔ تم پر
علیکم طبتم ۔ نحمدک و نصلّی ۔ صلٰو ۃ العرش الی الفرش ۔
سلام تم پاک ہو۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔ عرش سے فرش تک تیرے پردرود ہے
نَزَلتُ لَکَ ولَکَ نُرِیْ اٰیاتٍ۔ اَلْاَمْرَاضُ تُشَاعُ والنُّفُوْسُ
مَیں تیرے لئے اُترا ہوں اور تیرے لئے اپنے نشان دکھلاؤں گا۔ ملک میں بیماریاں پھیلیں گی۔ اور بہت جانیں
تُضَاعُ۔ وَمَا کَانَ اللّٰہ لِیُغَیِّرَ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا
ضائع ہونگی۔ اور خدا ایسا نہیں ہے جو اپنی تقدیر کو بدل دے جو ایک قوم پر نازل کی جب تک وہ قوم اپنے دلوں کے خیالات
بِاَنْفُسِھِمْ ۔ اِنہٗ اوی القریۃ۔ز لولا الاکرام ۔ لھلک المقام ۔
کو نہ بدل ڈالیں۔ وہ اس قادیان کو کسی قدر بلا کے بعد اپنی پناہ میں لے گا۔ اگر مجھے تیری عزّت کا پاس نہ ہوتا تو اس تمام گاؤں کو مَیں ہلاک کر دیتا
انی احافظ کُلّ من فی الدار ۔ ما کان اللّٰہ لیعذّبھم
میں ہر ایک کو جو اس گھر کی چار دیوار کے اندر ہے بچا لوں گا۔ کوئی ان میں سے طاعون یا بھونچال سے نہیں مریگا۔ خدا ایسا نہیں ہے
ظالم انسان کا قاعدہ ہے کہ وہ خدا کے رسولوں اور نبیوں پر ہزارہا نکتہ چینیاں کرتا ہے اور طرح طرح کے عیب اُن میں نکالتا ہے گویا دنیا کے تمام عیبوں اور خرابیوں اور جرائم اور معاصی اور خیانتوں کا وہی مجموعہ ہیں۔ اب ان وساوس کا کہاں تک جواب دیا جائے جو نفس کی شرارت کے ساتھ مخلوط ہیں۔ اس لئے یہ سنت اللہ ہے کہ آخر ان تمام جھگڑوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور کوئی ایسا عظیم الشان نشان ظاہر کرتا ہے جس سے اس نبی کی بریت ظاہر ہوتی ہے۔ پس 3 ۱ کے یہی معنے ہیں۔منہ
ز اویٰ کا لفظ عرب کی زبان میں اس موقعہ پر استعمال پاتا ہے جبکہ کسی قدر تکلیف کے بعد کسی شخص کو اپنی پناہ میں لیا جائے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے 3۲۔ اور جیسا کہ فرماتا ہے 3 ۳۔منہ