وانت فیھم ۔ امن است درمکان محبت سرائے ما۔ بھونچال
کہ جن میں تو ہے ان کو عذاب کرے۔ ہماری محبت کا گھر امن کا گھر ہے۔ ایک زلزلہ
آیا اور شدّت سے آیا۔ زمین تہ و بالا کر دی۔ یوم تأ تی السمآء
آئے گا اور بڑی سختی سے آئے گا۔ اور زمین کو زیر وزبر کر دے گا۔ اُس دن آسمان سے
بد خان مبین* ۔ و تری الا رض یومئذٍ خامدۃ
ایک کھلا کھلا دُھواں نازل ہوگا۔ اور اس دن زمین زرد پڑ جائے گی یعنی سخت قحط کے آثار ظاہر ہونگے
مصفرّؔ ۃ ۔ اُکرمک بعد توھینک ۔ژ یریدون ان لا یتمّ
مَیں بعد اسکے جو مخالف تیری توہین کریں تجھے عزّت دُونگا اور تیرا اکرام کرونگا۔ وہ ارادہ کرینگے جو تیرا کام نا تمام رہے
امرک ۔ واللّٰہ یابٰی الَّا ان یتمّ امرک ۔ انی انا الرحمٰن ۔ سأَجعل
اور خدا نہیں چاہتا جو تجھے چھوڑ دے جب تک تیرے تمام کام پورے نہ کرے۔ مَیں رحمان ہوں۔ ہر ایک امر
لک سھولۃ فی کلّ امر ۔ اُریک برکات من کلّ طرفٍ ۔
میں تجھے سہولت دُوں گا۔ ہر ایک طرف سے تجھے برکتیں دکھلاؤں گا۔
نزلت الرحمۃ علٰی ثلاث العین وعلی الاُخریین ۔ تردّ الیک
میری رحمت تیرے تین عضو پر نازل ہے ایک آنکھیں اور دو اور عضو ہیں یعنی انکو سلامت رکھوں گا۔ اور جوانی کے نور
انوار الشباب ۔ تریٰ نسلاً بعیداظ ۔ انّا نبشّرک بغلام مظھر
تیری طرف عود کریں گے۔ اور تُو اپنی ایک دور کی نسل کو دیکھ لیگا۔ ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جس کے ساتھ
یعنی اس زلزلہ کے لئے جو قیامت کا نمونہ ہوگا یہ علامتیں ہیں کہ کچھ دن پہلے اس سے قحط پڑے گا اور زمین خشک رہ جائے گی۔ نہ معلوم کہ معًا اس کے بعد یا کچھ دیر کے بعد زلزلہ آئے گا۔ منہ
ژ یعنی وہ بڑے نشان جو دنیا میں ظاہر ہوں گے ضرور ہے جو پہلے ان سے توہین کی جائے اور طرح طرح کی بُری باتیں کہی جائیں اور الزام لگائے جائیں۔ تب بعد اس کے آسمان سے خوفناک نشان ظاہر ہوں گے یہی سُنّت اللہ ہے کہ پہلی نوبت منکروں کی ہوتی ہے اور دوسری خدا کی۔ منہ
ظ یہ خدا تعالیٰ کی وحی یعنی’’ تریٰ نسلًا بعیدًا‘‘ قریبًا تیس سال کی ہے۔ منہ