قل ای وربّی انّہ لحق ۔ ولا یُردّ عن قوم یعرضون ۔ الرحٰی کہہ خدا کی قسم اس زلزلہ کا آنا سچ ہے۔ اور خدا سے برگشتہ ہونیوالے کسی مقام میں اس سے بچ نہیں سکتے یعنی کوئی مقام یدور و ینزل القضاء ۔ لم یکن الذین کفروا من اُن کو پناہ نہیں دے سکتا بلکہ اگر گھر کے دروازہ میں بھی کھڑے ہیں تو توفیق نہ پائینگے جو اس سے باہر ہو جائیں مگر اپنے عمل سے اھل الکتاب والمشرکین منفکّین حتّٰی تاْ تیھم البیّنۃ ۔ ایک چکی گردش میں آئیگی اور قضا نازل ہوگی ۔ جو لوگ اہل کتاب اور مُشرکوں میں سے حق کے منکر ہو گئے وہ بُجز اس نشان عظیم کے اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ اُرِیْک زلزلۃ الساعۃ ۔ باز آنیوالے نہ تھے۔ اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ مَیں تجھے قیامت والا زلزلہ دکھاؤں گا۔ یریکم اللّٰہ زلزلۃ الساعۃ ۔ لمن الملک الیوم لِلّٰہِ الواحِد خدا تجھے قیامت والا زلزلہ دکھائے گا۔ اُس دن کہا جائے گا آج کس کا ملک ہے کیا اس خدا کا ملک نہیں جو القھّار ۔ چمک دِکھلاؤں گا تم کو اِس نشان کی پنج بار ۔ سب پر غالب ہے۔ اور مَیں اس زلزلہ کے نشان کی پنج مرتبہ تم کو چمک دکھلاؤں گا۔ اگر چاہوں تو اُس دن خاتمہ۔* انّی احافظ کلّ من اگر چاہوں تو اُس دن دنیا کا خاتمہ کردوں۔ مَیں ہر ایک کو جو تیرے گھر میں ہوگا اُس کی فی الدّار ۔ اریک ما یُرضیک۔ رفیقوں کو کہہ دو کہ حفاظت کروں گا۔ اور مَیں تجھے وہ کرشمہ قدرت دکھلاؤنگا جس سے تُو خوش ہو جائیگا۔ رفیقوں کو کہہ دو کہ عجائب در عجائب کام دکھلانے کا وقت آگیا ہے۔ عجائب در عجائب کام دکھلانے کا وقت آگیا ہے۔ * اس وحی الٰہی سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ زلزلے آئیں گے اور پہلے چار زلزلے کسی قدر ہلکے اور خفیف ہوں گے اور دنیا ان کو معمولی سمجھے گی اور پھر پانچواں زلزلہ قیامت کا نمونہ ہوگا کہ لوگوں کو سو دائی اور دیوانہ کر دے گا یہاں تک کہ وہ تمنّا کرینگے کہ وہ اس دن سے پہلے مر جاتے۔ اب یاد رہے کہ اس وحی الٰہی کے بعد اس وقت تک جو ۲۲؍جولائی۱۹۰۶ء ہے اس ملک میں تین زلزلے آچکے ہیں یعنی ۲۸؍فروری ۱۹۰۶ء اور ۲۰؍مئی ۱۹۰۶ء ۔اور ۲۱؍جولائی ۱۹۰۶ء مگر غالبًا خدا کے نزدیک یہ زلزلوں میں داخل نہیں ہیں کیونکہ بہت ہی خفیف ہیں شاید چار زلزلے پہلے ایسے ہوں گے جیسا کہ ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کا زلزلہ تھا اور پانچواں قیامت کا نمونہ ہوگا۔ واللّہ اعلم۔ منہ