الکُفّار اِنّی من الصادقین ۔ فانتظروا ٰا یا تی حتّٰی حین ۔ سنریھم منکرو مَیں صادقوں میں سے ہوں۔ پس تم میرے نشانوں کا ایک وقت تک انتظار کرو۔ ہم عنقریب اٰیا تنا فی الاٰ فاق وفیانفسھم ۔ حُجّۃ قائمۃ وفتح مبین ۔ انّ اللّٰہ انکو اپنے نشان اُنکے ارد گرد اور انکی ذاتوں میں دکھائیں گے اُس دن حجت قائم ہوگی اور کھلی کھلی فتح ہو جائیگی خدا اُس دن یفصل بینکم ۔ ان اللّٰہ لا یھد ی من ھو مسرف کذّ اب ۔ و وضعنا تم میں فیصلہ کر دے گا۔ خدا اُس شخص کو کامیاب نہیں کرتا جو حد سے نکلا ہوا اور کذّاب ہے۔ اور ہم وہ بھار عنک وزرک الذ ی ا نقض ظھرک ۔ و قُطع دابر القوم الذ ین تیرا اُٹھا لیں گے جس نے تیری کمر توڑدی۔ اور ہم اس قوم کو جڑھ سے کاٹ دینگے جو ایک لا یُؤْ منون *۔ قل ا عملوا علٰی مکانتکم انی عامل فسوف حق الامر پر ایمان نہیں لاتے۔ اُنکو کہہ کہ تم اپنے طور پر اپنی کامیابی کیلئے عمل میں مشغول رہو اور میں بھی عمل میں مشغول ہوں پھر دیکھو گے تعلمون ۔ انّ اللّٰہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون ۔ کہ کس کے عمل میں قبولیت پیدا ہوتی ہے۔ خدا اُن کے ساتھ ہوگا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور اُنکے ساتھ جو نیک کاموں میں مشغول ہیں۔ ھل اَ تاک حدیث الزلزلۃ ۔ اذا زلزلت الارض زلزالھا ۔ کیا تجھے آنے والے زلزلہ کی خبر نہیں ملی۔ یاد کر جب کہ سخت طور پر زمین ہلائی جائے گی۔ واخرجت الارض اثقالھا۔ وقال الانسان مالھا ۔ یومئذٍ اور زمین جو کچھ اسکے اندر ہے باہر پھینک دے گی۔ اور انسان کہے گا کہ زمین کو کیا ہو گیا کہ یہ غیر معمولی بلا اس میں پیدا ہو گئی۔ تحدّث اخبارھا ۔ بانّ ربّک اوحٰی لھا۔احسب النّاس اُس دن زمین اپنی باتیں بیان کریگی کہ کیا اسپر گذرا۔ خدا اس کیلئے اپنے رسول پر وحی نازل کریگا کہ یہ مصیبت پیش آئی ہے۔ کیا لوگ ان ؔ یترکوا ۔ وما یأتیھم اِلّا بغتۃ ۔ یسئلونک احق ھو ۔ خیال کرتے ہیں کہ یہ زلزلہ نہیں آئے گا ضرور آئے گا اور ایسے وقت آئے گا کہ وہ بالکل غفلت میں ہوں گے اور ہر ایک اپنے دنیا کے کام میں مشغول ہوگا کہ زلزلہ ان کوپکڑ لے گا۔ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا ایسے زلزلہ کا آنا سچ ہے؟ * یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ وقت آتا ہے کہ حق کھل جائے گا اور تمام جھگڑے طے ہو جائیں گے اور یہ فیصلہ آسمانی نشانوں کے ساتھ ہوگا زمین بگڑ گئی ہے اب آسمان اس کے ساتھ جنگ کرے گا۔ منہ