سَلامٌ قولًا من ربّ رحیم۔ وامتازوالیوم ایّھا المجرمون۔ تم سب پر اُس خدا کا سلام جو رحیم ہے اور اے مجرمو! آج تم الگ ہو جاؤ۔ اِنّی مع الروح معک ومع اھلک ۔لا تخف انی لا یخاف لدیّ مَیں اور رُوح القدس تیرے ساتھ ہیں اور تیرے اہل کے ساتھ مت ڈر میرے قرب میں میرے المرسلون۔ ان وعد اللّٰہ اتٰی ورکل ورکٰی فطوبٰی لمن رسول نہیں ڈرتے۔ خدا کا وعدہ آیا اور زمین پر ایک پاؤں مارا اور خلل کی اصلاح کی پس مبارک وہ وجد و رَاأی ۔ امم یَسّرنا لھم الھُدیٰ۔ وامم حق جس نے پایا اور دیکھا۔ بعض نے ہدایت پائی اور بعض مستوجب علیھم العذاب ۔ وقالوا لست مرسلا ۔ قل کفٰی باللّٰہ عذاب ہو گئے۔ اور کہیں گے کہ یہ خدا کا فرستادہ نہیں۔ کہہ میری سچائی پر خدا شھیدا بینی وبینکم ومن عندہٗ علم الکتٰب ینصرکم گواہی دے رہا ہے اور وہ لوگ گواہی دیتے ہیں جو کتاب اللہ کا علم رکھتے ہیں خدا ایک عزیز اللّٰہ فی وقت عزیز ۔ حکم اللّٰہ الرحمٰن لخلیفۃ اللّٰہ وقت میں تمہاری مدد کرے گا۔ خدائے رحمن کا حکم ہے اس کے خلیفہ کے لئے جس کی آسمانی السلطان۔ یُؤْتٰی لہ الملک العظیم ۔ وتفتح علی یدہ* بادشاہت ہے۔ اس کو ملک عظیم دیا جائے گا۔ اور خزینے اُس کے لئے الخزؔ ائن ۔ ذالک فضل اللّٰہ۔ وفی اعینکم عجیب ۔ قل یٰٓایُّھَا کھولے جائیں گے یہ خدا کا فضل ہے اور تمہاری آنکھوں میں عجیب۔ کہہ اے * کسی آئندہ زمانہ کی نسبت یہ پیشگوئی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کشفی رنگ میں کنجیاں دی گئی تھیں مگر ان کنجیوں کا ظہور حضرت عمر فاروق کے ذریعہ سے ہوا۔ خدا جب اپنے ہاتھ سے ایک قوم بناتا ہے تو پسند نہیں کرتا کہ ہمیشہ ان کو لوگ پاؤں کے نیچے کچلتے رہیں آخر بعض بادشاہ ان کی جماعت میں داخل ہو جاتے ہیں اور اس طرح پر وہ ظالموں کے ہاتھ سے نجات پاتے ہیں جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیلئے ہوا۔ منہ