صاؔ فیناہ ونجّیناہُ من الغمّ ۔ تفرّدنا بذالک۔ فاتخذوا
ہم نے اس سے صاف دوستی کی اور غم سے نجات دی ہم اس امر میں اکیلے ہیں سو تم
من مقام ابراہیم مُصلّٰی۔ انّا انزلناہ قریبًا مِن القادیان
اس ابراہیم کے مقام سے عبادت کی جگہ بناؤ یعنی اس نمونہ پر چلو۔ ہم نے اسکو قادیان کے قریب اُتارا ہے
وبالحق انزلناہ وبالحق نزل ۔ صدق اللّٰہ ورسولہ ۔
اوروہ عین ضرورت کے وقت اُتارا ہے اور ضرورت کے وقت اُترا ہے۔ خدا اور اُسکے رسول کی پیشگوئی پوری ہوئی
وکان امر اللّٰہ مفعولا ۔ الحمد للّٰہ الذی جعلک المسیح
اور خدا کا ارادہ پُورا ہونا ہی تھا۔ اُس خدا کی تعریف ہے جس نے تجھے مسیح
اور میں نہیں جانتا کہ پہلے وہ کشفی حالت دور ہوئی یا پہلے مرض دور ہو گئی اور لڑکا آرام سے فجر تک سویا رہا۔ اور چونکہ خدا تعالیٰ نے اپنی طرف سے یہ خاص معجزہ مجھ کو عطا فرمایا ہے اس لئے مَیں یقیناًکہتا ہوں کہ اس معجزہ شفاء الامراض کے بارے میں کوئی شخص روئے زمین پر میرا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اگر مقابلہ کا ارادہ کرے تو خدا اس کو شرمندہ کرے گا۔ کیونکہ یہ خاص طور پر مجھ کو موہبت الٰہی ہے جو معجزانہ نشان دکھلانے کے لئے عطا کی گئی ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ہر ایک بیمار اچھا ہو جائے گا بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اکثر بیماروں کو میرے ہاتھ پر شفا ہوگی۔
اور اگر کوئی چالاکی اور گُستاخی سے اِس معجزہ میں میرا مقابلہ کرے اور یہ مقابلہ ایسی صُورت سے کیا جائے کہ مثلاً قرعہ اندازی سے بیس۲۰ بیمار میرے حوالہ کئے جائیں اور بیس۲۰ اس کے حوالے کئے جائیں تو خدا تعالیٰ ان بیماروں کو جو میرے حصّہ میں آئیں شفایابی میں صریح طور پر فریق ثانی کے بیماروں سے زیادہ رکھے گا اور یہ نمایاں معجزہ ہوگا۔ افسوس کہ اس مختصر رسالہ میں گنجائش نہیں ورنہ نظیر کے طور پر بہت سے عجیب واقعات بیان کئے جاتے۔ منہ