فیؔ الحیٰوۃ الدُّنیا وَ الاٰخرۃ ۔ اذا غضبتَ غضبتُ متکفّل دنیا اور آخرت میں ہیں جس پر تو غضبناک ہو مَیں غضبناک ہوتا ہوں وکلّما اَحْبَبْتَ اَحْبَبْتُ۔ من عادیٰ ولیًّا لی فقد ٰاذنتہٗ اور جن سے تو محبت کرے مَیں بھی محبت کرتا ہوں۔ اور جو شخص میرے ولی سے دشمنی رکھے میں لڑنے کیلئے للحرب۔ اِنّی مع الرّسول اقوم ۔ والوم من یلوم ۔ اُسکو متنبّہ کرتا ہوں۔ مَیں اِس رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ اور اس شخص کو ملامت کروں گا جو اُسکو ملامت کرے۔ واُعْطیک مَا یدوم ۔ یأتیک الفرج۔ سَلامٌ علٰی ابراہیم اور تجھے وہ چیزدوں گا جو ہمیشہ رہے گی۔ کشائش تجھے ملے گی۔ اِس ابراہیم پر سلام۔ سُنائی گئی مگر خدا تعالیٰ نے میری دعاکو قبول فرما کر بغیر ذریعہ کسی دوا کے مجھے شفا بخشی اور جب مَیں صبح اُٹھا تو بالکل شفا تھی اور ساتھ ہی یہ وحی الٰہی ہوئی وان کنتم فی ریب ممّا نزلنا علٰی عبدنا فاتوا بشفاء من مثلہٖ یعنی اگر تم اِس رحمت کے بارہ میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندہ پر نازل کی تو اس شفا کی کوئی نظیر پیش کرو۔ اسی طرح بہت سی ایسی صورتیں پیش آئیں جو محض دعااور توجہ سے خدا تعالیٰ نے بیماروں کو اچھا کر دیا جن کا شمار کرنا مشکل ہے۔ ابھی ۸؍جولائی ۱۹۰۶ء کے دن سے جو پہلی رات تھی میرا لڑکا مبارک احمد خسرہ کی بیماری سے سخت گھبراہٹ اور اضطراب میں تھا۔ ایک رات تو شام سے صبح تک تڑپ تڑپ کر اُس نے بسر کی اور ایک دم نیند نہ آئی اور دُوسری رات میں اس سے سخت تر آثار ظاہر ہوئے اور بیہوشی میں اپنی بوٹیاں توڑتا تھا اور ہذیان کرتا تھا۔ اور ایک سخت خارش بدن میں تھی۔ اُس وقت میرا دل دردمند ہوا اور الہام ہوا۔ اُدْعُونی استجب لکم۔ تب معًا دعاکے ساتھ مجھے کشفی حالت میں معلوم ہوا کہ اُس کے بستر پر چوہوں کی شکل پر بہت سے جانور پڑے ہیں اوروہ اُس کو کاٹ رہے ہیں اور ایک شخص اُٹھا اور اُس نے تمام وہ جانور اکٹھے کرکے ایک چادر میں باندھ دئے اور کہا کہ اِس کو باہر پھینک آؤ اور پھر وہ کشفی حالت جاتی رہی۔