اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ انت منّی بمنزلۃ توحیدی
تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید
وتفریدی۔ فحان ان تُعَان وتعرف بین الناس ۔
اور تفرید۔ پس وہ وقت آتا ہے کہ تو مدد دیا جائے گا اور دنیا میں مشہور کیا جائے گا۔
انت منّی بمنزلۃ عرشی۔ انت منّی بمنزلۃ ولدی۔*
تو مجھ سے بمنزلہ میرے عرش کے ہے۔ تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔
انت منّی بمنزلۃ لا یعلمھا الخلق۔ نحن اولیآء کم
تو مجھے سے بمنزلہ اس انتہائی قُرب کے ہے جس کو دنیا نہیں جان سکتی۔ ہم تمہارے متولّی اور
خالی نہیں جائے گی۔ چنانچہ اُسی دن بلکہ اُسی وقت لڑکے کی حالت روبہ صحت ہو گئی گویا وہ قبر میں سے نکلا۔ مَیں یقیناًجانتا ہوں کہ معجزات احیائے موتٰی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِس سے زیادہ نہ تھے۔ مَیں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ اِس قسم کے احیائے موتٰی بہت سے میرے ہاتھ سے ظہور میں آچکے ہیں۔ اور ایک دفعہ بشیراحمد میرا لڑکا آنکھوں کی بیماری سے بیمار ہو گیا اور مدّت تک علاج ہوتا رہا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ تب اُس کی اضطراری حالت دیکھ کر میں نے جناب الٰہی میں دعاکی تو یہ الہام ہوا برَّق طفلی بشیر یعنی میرے لڑکے بشیر نے آنکھیں کھول دیں تب اُسی دِن خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے اُس کی آنکھیں اچھی ہو گئیں۔ اور ایک مرتبہ مَیں خود بیمارہو گیا یہاں تک کہ قُربِ اجل سمجھ کر تین مرتبہ مجھے سورۃ یٰسٓ
* خداؔ تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے اور یہ کلمہ بطور استعارہ کے ہے چونکہ اس زمانہ میں ایسے ایسے الفاظ سے
نادان عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کو خدا ٹھہرا رکھا ہے اسلئے مصلحتِ الٰہی نے یہ چاہا کہ اس سے بڑھ کر الفاظ اس عاجز کیلئے استعمال کرے تا عیسائیوں کی آنکھیں کھلیں اوروہ سمجھیں کہ وہ الفاظ جن سے مسیح کو وہ خدا بناتے ہیں اس اُمّت میں بھی ایک ہے جس کی نسبت اس سے بڑھ کر ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ منہ