ثلّۃؔ من الاوّلین وثلّۃ من الاٰخرین۔ مَیں اپنی چمکار
ان میں سے ایک پہلا گرو ہ ہو اور ایک پچھلا۔
دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سےؔ
قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ابھی مَیں شاید تین رکعت پڑھ چکا تھا کہ میرے پر کشفی حالت طاری ہو گئی اور میں نے کشفی نظر سے دیکھا کہ لڑکا بالکل تندرست ہے تب وہ کشفی حالت جاتی رہی اور مَیں نے دیکھا کہ لڑکا ہوش کے ساتھ چارپائی پر بیٹھا ہے اور پانی مانگتا ہے اور مَیں چار رکعت پوری کر چکا تھا۔ فی الفور اس کو پانی دیا اور بدن پر ہاتھ لگا کر دیکھا کہ تپ کا نام ونشان نہیں اور ہذیان اور بیتابی اور بیہوشی بالکل دور ہو چکی تھی اور لڑکے کی حالت بالکل تندرستی کی تھی۔ مجھے اُس خدا کی قدرت کے نظارہ نے الٰہی طاقتوں اور دعاقبول ہونے پر ایک تازہ ایمان بخشا۔
پھر ایک مدت کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ نواب سردار محمد علی خان رئیس مالیرکوٹلہ کا لڑکا قادیان میں سخت بیمار ہو گیا اور آثار یاس اور نومیدی کے ظاہر ہو گئے اُنہوں نے میری طرف دعاکیلئے التجا کی۔ مَیں نے اپنے بیت الدعا میں جاکر اُن کیلئے دعاکی اور دعاکے بعد معلوم ہوا کہ گویا تقدیر مبرم ہے اور اس وقت دعا کرنا عبث ہے تب میں نے کہا کہ یا الٰہی اگر دعاقبول نہیں ہوتی تو ؔ میں شفاعت کرتا ہوں کہ میرے لئے اس کو اچھا کر دے یہ لفظ میرے مُنہ سے نکل گئے مگر بعد میں مَیں بہت نادم ہوا کہ ایسا مَیں نے کیوں کہا۔ اور ساتھ ہی مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی ہوئی من ذاالذی یشفع عندہٗ اِلَّا باذنہٖ یعنی کس کو مجال ہے کہ بغیر اذن الٰہی شفاعت کرے۔ مَیں اس وحی کو سُن کر چُپ ہو گیا اور ابھی ایک منٹ نہیں گذرا ہوگا کہ پھر یہ وحی الٰہی ہوئی کہ انک انت المجاز یعنی تجھے شفاعت کرنے کی اجازت دی گئی۔ بعد میں پھر مَیں نے دعاپر زور دیا اور مجھے محسوس ہوا کہ اب یہ دعا