اورؔ تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ رَبُّ الافواج اس طرف توجہ کرے گا اس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے مُنہ کی باتیں ہیں یا عیسٰی انّی متوفّیک ورافعک الیّ وجاعل الّذین اے عیسیٰ مَیں تجھے وفات دوں گا اور تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور مَیں تیرے اتبعوک فوق الّذین کفروا الٰی یوم القیامۃ ۔ تابعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔ اور توجہ سے شفایاب ہوئے ہیں میرا لڑکا مبارک احمد قریباً دو برس کی عمر میں ایسا بیمار ہوا کہ حالتِ یاس ظاہر ہو گئی اور ابھی میں دعاکر رہا تھا کہ کسی نے کہا کہ لڑکا فوت ہو گیا ہے یعنی اب بس کرو دعاکا وقت نہیں مگر مَیں نے دعا کرنا بس نہ کیا اور جب میں نے اسی حالت توجہ الی اللہ میں لڑکے کے بدن پر ہاتھ رکھا تو معاً مجھے اُس کا دم آنا محسوس ہوا اور ابھی میں نے ہاتھ اس سے علیحدہ نہیں کیا تھا کہ صریح طور پر لڑکے میں جان محسوس ہوئی اور چند منٹ کے بعد ہوش میں آکر بیٹھ گیا۔ اور پھر طاعون کے دنوں میں جبکہ قادیان میں طاعون زور پر تھا میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا اور ایک سخت تپ محرقہ کے رنگ میں چڑھا جس سے لڑکا بالکل بیہوش ہو گیا اور بیہوشی میں دونوں ہاتھ مارتا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ اگرچہ انسان کو موت سے گریز نہیں مگر اگر لڑکا اِن دنوں میں جو طاعون کا زور ہے فوت ہو گیا تو تمام دشمن اِس تپ کو طاعون ٹھہرائیں گے اور خدا تعالیٰ کی اُس پاک وحی کی تکذیب کریں گے کہ جو اُس نے فرمایا ہے انّی احافظ کلّ من فی الدار یعنی مَیں ہر ایک کو جو تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہے طاعون سے بچاؤنگا۔ اِس خیال سے میرے دل پر وہ صدمہ وارد ہوا کہ مَیں بیان نہیں کر سکتا۔ قریبًا رات کے بارہ بجے کا وقت تھا کہ جب لڑکے کی حالت ابتر ہو گئی اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ یہ معمولی تپ نہیں یہ اور ہی بلا ہے تب میں کیا بیان کروں کہ میرے دل کیؔ کیا حالت تھی کہ خدا نخواستہ اگر لڑکا فوت ہو گیا تو ظالم طبع لوگوں کو حق پوشی کے لئے بہت کچھ سامان ہاتھ آجائے گا۔ اسی حالت میں مَیں نے وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑا ہو گیا اور معًا کھڑا ہونے کے ساتھ ہی مجھے وہ حالت میسّر آگئی جو استجابت دعاکے لئے ایک کھلی کھلی نشانی ہے اور مَیں اُس خدا کی