الذؔ ین اتقوا والذین ھم محسنون ۔ قل ان افتریتہٗ
جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور انکے ساتھ جو نیک کا موں میں مشغول ہیں۔ کہہ اگر مَیں نے افترا کیا ہے تو میری
فعلیّ اجرامی ۔ ولقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون ۔
گردن پر میرا گناہ ہے اور میں پہلے اس سے ایک مدّت تک تم ہی میں رہتا تھا کیا تم کو سمجھ نہیں۔
الیس اللّٰہ بکافٍ عبدہ ۔ ولنجعلہ اٰیۃ للنّاس ورحمۃ
کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔ اور ہم اس کو لوگوں کے لئے ایک نشان اور ایک نمونہ
منّا وکان امرًا مقضیّا ۔ قول الحق الذی فیہ تمترون۔
رحمت بنائیں گے اور یہ ابتدا سے مقدر تھا۔ یہ وہی امر ہے جس میں تم شک کرتے تھے۔
سلام علیک جُعلت مبارکًا۔ انت مبارک فی الدنیا
تیرے پر سلام تُو مبارک کیا گیا۔ تُو دنیا اور آخرت میں مبارک
و الاٰخرۃ ۔ امراض الناس و برکاتہٗ ۔ بخرام کہ وقت ِ تو
ہے۔ تیرے ذریعہ سے مریضوں پر برکت نازل ہوگی۔*
نزدیک رسید وپائے محمدیان برمنار بلند تر محکم افتادپاک محمد
مصطفٰے نبیوں کا سردار۔ خدا تیرے سب کام درست کر دے گا۔
یہ خدا کا قول کہ تیرے ذریعہ سے مریضوں پر برکت نازل ہوگی رُوحانی اور جسمانی دونوں قسم کے مریضوں پر مشتمل ہے۔ رُوحانی طور پر اس لئے کہ مَیں دیکھتا ہوں کہ میرے ہاتھ پر ہزارہا لوگ بیعت کرنیوالے ایسے ہیں کہ پہلے اُنکی عملی حالتیں خراب تھیں اور پھر بیعت کرنے کے بعد اُنکے عملی حالات درست ہو گئے اور طرح طرح کے معاصی سے انہوں نے توبہ کی اور نماز کی پابندی اختیار کی اور مَیں صدہا ایسے لوگ اپنی جماعت میں پاتا ہوں کہ جن کے دلوں میں یہ سوزش اور تپش پیدا ہو گئی ہے کہ کس طرح وہ جذباتِ نفسانیہ سے پاکؔ ہوں اور جسمانی امراض کی نسبت مَیں نے بارہامشاہدہ کیا ہے کہ اکثر خطرناک امراض والے میری دعا