لعلی اطّلع علٰی اِلٰہِ مُوسٰی ۔ وانّی لَاَ ظُنُّہٗ من الکاذبین ۔
میرے لئے آگ بھڑکا تا میں موسیٰ کے خدا پر اطلاع پاؤں اور مَیں اُس کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔
تبّت یدا ابی لھبٍ وَّ تبّ * ۔ ما کان لہٗ ان یدخل
ہلاک ہو گئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے اور وہ آپ بھی ہلاک ہو گیا اسکو نہیں چاہئے تھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتا
فیھا الَّا خائفًا ۔ وما اصابک فمن اللّٰہ ۔ الفتنۃ ھٰھُنا ۔
مگر ڈرتے ڈرتے۔ اور جو کچھ تجھے رنج پہنچے گا وہ تو خدا کی طرف سے ہے۔ اس جگہ ایک فتنہ برپا ہوگا۔
فاصبر کما صبر اولو العزم ۔ الَآ انّھا فتنۃ من اللّٰہ ۔
پس صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا۔ وہ فتنہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا۔
لیحب حبًّا جمّا ۔ حُبًّا من اللّٰہ العزیز الاکْرَم ۔ شاتان
تا وہ تجھ سے محبت کرے۔ وہ اس خدا کی محبت ہے جو بہت غالب اور بزرگ ہے۔ دو بکریاں
تذبحان ۔ وکل من علیھا فان ۔ ولا تھنوا ولا تحزنوا ۔
ذبح کی جائیں گی۔ اور ہر ایک جو زمین پر ہے آخر وہ فنا ہوگا۔ تم کچھ غم مت کرو اور اندو ہگین مت ہو
الیس اللّٰہ بکافٍ عبدہٗ ۔ الم تعلم انّ اللّٰہ علٰی
کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں۔ کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر ایک
کُلِّ شیءٍ قدیر۔ وان یتخذونک الَّا ھزوا ۔
چیز پر قادر ہے اور تجھے انہوں نے ٹھٹھے کی جگہ بنا رکھا ہے۔
أَھٰذا الّذی بعث اللّٰہ ۔قل انّما انا بشر مثلکم
وہ ہنسی کی راہ سے کہتے ہیں کیا یہی ہے جس کو خدا نے مبعوث فرمایا۔ ان کو کہہ کہ مَیں تو ایک انسان ہوں۔
* اس جگہ ابو لہب سے مراد ایک دہلوی مولوی ہے جو فوت ہو چکا ہے اور یہ پیشگوئی ۲۵ برس کی ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے اور یہ اس زمانہ میں شائع ہو چکی ہے جبکہ میری نسبت تکفیر کا فتویٰ بھی ان مولویوں کی طرف سے نکلا تھا۔ تکفیر کے فتویٰ کا بانی بھی وہی دہلی کا مولوی تھا جس کا نام خدا تعالیٰ نے ابو لہب رکھا اور تکفیر سے ایک مدّت دراز پہلے یہ خبر دے دی جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔ منہ