یعلمون ۔ وَاِذَا قِیْلَ لھم لا تُفْسِدُوْا فی الارض قَالوا مطلع نہیں اور جب اُن کو کہا جائے کہ زمین پر فساد مت کرو کہتے ہیں کہ انّما نحن مُصلِحون۔ قل جَاءَ کُم نُورٌ مِّنَ اللّٰہ فلا تکفروا بلکہ ہم اصلاح کرنے والے ہیں۔ کہہ تمہارے پاس خدا کا نور آیا ہے پس اگر ان کنتم مؤمنین ۔ اَمْ تَسْءَلھم من خرج فھم مِنْ مَّغْرمٍ مومن ہو تو انکار مت کرو کیا تُو ان سے کچھ خراج مانگتا ہے پس وہ اُس چٹی کی وجہ سے مُّثْقَلُوْنَ ۔ بل اٰ تَیْنٰھم بِالحَقِّ فہم لِلْحَقِّ کارِھون۔ تلطّف ایمان لانے کا بوجھ اُٹھا نہیں سکتے۔ بلکہ ہم نے ان کو حق دیا اور وہ حق لینے سے کراہت کرتے ہیں۔ لوگوں کے بالنّاس وترحم علیھم۔ انت فیھم بمنزلۃ موسٰی واصبر ساتھلطف اور رحم کے ساتھ پیش آ۔ تو ان میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے اور ان کی علٰی ما یقولون ۔ لعلّک بَاخِعٌ نفسک اَ لَّا یکونوا مؤمنین ۔ باتوں پر صبر کر۔ کیا تُو اس لئے اپنے تئیں ہلاک کرے گا کہ وہ کیوں ایمان نہیں لاتے لا تقف ما لیس لک بہٖ علم ۔ ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا اس بات کے پیچھے مت پڑ جس کا تجھے علم نہیں اور ان لوگوں کے بارہ میں جو ظالم ہیں مجھ سے گفتگو انّھم مغرقون ۔ واصنع الفلک بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا۔ اِنَّ مت کر کیونکہ وہ سب غرق کئے جائینگے۔ اور ہماری آنکھوں کے رو برو کشتی تیار کر۔ اور ہمارے اشارے سے وہ لوگ جو الّذین یبایعونک انّما یبایعون اللّٰہ۔ ید اللّٰہ فوق ایدیھم تیرے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں وہ خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں یہ خدا کا ہاتھ ہے جو انکے ہاتھوں پر ہے واذؔ یمکربک الّذی کفَّر* ۔ اوقدلی یا ھامان اور یاد کروہ وقت جب تجھ سے وہ شخص مکر کرنے لگا جس نے تیری تکفیر کی اور تجھے کافر ٹھہرایا اور کہا کہ اے ہامان * مکفّر سے مراد مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی ہے کیونکہ اُس نے استفتاء لکھ کر نذیر حسین کے سامنے پیش کیا اور اس ملک میں تکفیر کی آگ بھڑکانے والا نذیر حسین ہی تھا۔ علیہ ما یستحقّہ۔ منہ