سیھزؔ م الجمع ویولّون الدُّبر ۔ انّک الیوم لدینا مکین
یہ سب لوگ بھاگ جائیں گے اور پیٹھ پھیرلیں گے تو ہمارے نزدیک آج صاحب مرتبہ
امین ۔ وانّ علیک رحمتی فی الدُّنیا والدّین وانّک
امین ہے اور تیرے پر میری رحمت دنیا اور دین میں ہے اور تُو اُن لوگوں میں سے ہے
من المنصورین ۔ یحمدک اللّٰہ ویمشی الیک ۔ سبحان
جن کے شامل نصرت الٰہی ہوتی ہے۔ خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چل رہا ہے۔ وہ پاک ذات
الّذی اسریٰ بعبدہٖ لیلا ۔ خلق اٰدم فاکرمہٗ ۔
وہی خدا ہے جس نے ایک رات میں تجھے سیر کرادیا۔ اُس نے اس آدم کو پیدا کیا اور پھر اس کو عزت دی۔
اس کو پا لیتا۔ پھر اپنی ایک اور وحی میں مجھ کو مخاطب کرکے فرماتا ہے خذوا التوحید خذوا التوحید یا ابناء الفارس۔ یعنی توحید کو پکڑو توحید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو۔
ان تمام کلمات الہٰیہ سے ثابت ہے کہ اس عاجز کا خاندان دراصل فارسی ہے نہ مغلیہ۔ نہ معلوم کس غلطی سے مغلیہ خاندان کے ساتھ مشہور ہو گیا اور جیسا کہ ہمیں اطلاع دیگئی ہے میرے خاندان کا شجرہ نسب اس طرح پر ہے کہ میرے والد کا نام میرزا غلام مرتضیٰ تھا اور اُنکے والد کا نام میرزا عطا محمد۔ میرزا عطا محمد کے والد میرزا گل محمد۔ میرزا گل محمد کے والد میرزا فیض محمداور میرزا فیض محمد کے والد میرزا محمد قائم۔ میرزا محمد قائم کے والد میرزا محمد اسلم۔ میرزا محمد اسلم کے والد میرزا دلاور۔ میرزا دلاور کے والد میرزا الٰہ دین۔ میرزا الٰہ دین کے والد میرزا جعفر بیگ۔ میرزا جعفر بیگ کے والد میرزا محمد بیگ۔ میرزا محمد بیگ کے والد میرزا عبد الباقی۔ میرزا عبد الباقی کے والد میرا محمد سلطان۔ میرزا محمد سلطان کے والد میرزا ہادی بیگ معلوم ہوتا ہے کہ میرزا اور بیگ کا لفظ کسی زمانہ میں بطور خطاب کے انکو ملا تھا جس طرح خان کا نام بطور خطاب دیا جاتا ہے۔ بہرحال جو کچھ خدانے ظاہر فرمایا ہے وہی درست ہے انسان ایک ادنیٰ سی لغزش سے غلطی میں پڑ سکتا ہے مگر خدا سہو اور غلطی سے پاک ہے۔منہ
میرے خاندان کی نسبت ایک اور وحی الٰہی ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا میری نسبت فرماتاس ہے سلمان منّا اھل البیت (ترجمہ) سلمان یعنی یہ عاجز جو دو صلح کی بنیاد ڈالتا ہے ہم میں سے ہے جو اہل بیت ہیں۔ یہ وحی الٰہی اس مشہور واقعہ کی تصدیق کرتی ہے جو بعض دادیاں اس عاجز کی سادات میں سے تھیں۔ اور دو صلح سے مراد یہ ہے کہ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ ایک صلح میرے ہاتھ سے اور میرے ذریعہ سے اسلام کے اندرونی فرقوں میں ہوگی اور بہت کچھ تفرقہ اُٹھ جائے گا اور دُوسری صلح اسلام کے بیرونی دشمنوں کے ساتھ ہوگی کہ بہتوں کو اسلام کی حقانیت کی سمجھ دی جائیگی اور وہ اسلام میں داخل ہو جائینگے تب خاتمہ ہوگا۔ منہ