یاؔ احمد اسکن انت و زوجک الجنّۃ۔ نُصِرْتَ
اے احمد تُو اور تیرے دوست بہشت میں داخل ہو۔ تجھے مدد دی جائے گی۔
وقالوا لات حین مناص۔ انّ الّذین کفروا
اور مخالف کہیں گے کہ اب گریز کی جگہ نہیں۔ وہ لوگ جو کافر ہوئے
وصدُّوا عن سبیل اللّٰہ ردّ علیھم رجل من فارس
اور خدا کی راہ کے مانع ہوئے اُن کا ایک فارسی الاصل آدمی نے ردّ کیا۔
شکر اللّٰہ سعیہ ۔ ام یقولون نحن جمیع منتصر ۔
خدا اسکی کوشش کا شکر گذار ہے۔ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایک زبردست جماعت تباہ کرنیوالے ہیں۔
اور اس طرح پر دُنیوی شوکت جو کسی کے ساتھ وفا نہیں کرتی زوال پذیر ہو گئی۔ بہرحال یہ خاندان اس نواح میں بہت شہرت رکھتا تھا۔ مگر خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ یہ عزّت صرف دنیوی حیثیت تک محدود رہے کیونکہ دنیا کی عزّتوں کا بجزبے جامشیخت اور تکّبر اور غرور کے اور کوئی ماحصل نہیں اِس لئے اب خدا تعالیٰ اپنی پاک وحی میں وعدہ دیتا ہے اور مجھے مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ اب یہ خاندان اپنا رنگ بدل لیگا اور اس خاندان کا سلسلہ تم سے شروع ہوگا اور پہلا ذکر منقطع ہو جائیگا اور اس وحی الٰہی میں کثرت نسل کیطرف بھی اشارہ ہے یعنی نسل بہت ہو جائیگی اور جیسا کہ بظاہر سمجھا گیا ہے ۔ یہ خاندان مغلیہ خاندان کے نام سے شہرت رکھتا ہے۔ لیکن خدائے عالم الغیب نے جو دانائے حقیقتِ حال ہے بار بار اپنی وحی مقدّس میں ظاہر فرمایا ہے جو یہ فارسی خاندان ہے اور مجھ کو ابناء فارس کرکے پکارا ہے جیسا کہ وہ میری نسبت فرماتا ہے انّ الّذین کفروا وصدّوا عن سبیل اللّٰہ ردّ علیھم رجل من فارس شکر اللّٰہ سعیہ یعنی جو لوگ کافر ہو کر خدا تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں ایک فارسی الاصل نے انکا ردّ لکھا ہے خدا اسکی اس کوشش کا شکر گذار ہے۔ پھر وہ ایک اور وحی میں میری نسبت فرماتا ہے لوکان الایمان معلّقًا بالثریّا لنا لہ ص رجل من فارسٍ۔ یعنی اگر ایمان ثریا کے ساتھ معلّق ہوتا تو ایک فارسی الاصل انسان وہاں بھی