لنفسی۔ سُبحان اللّٰہ تبارک وتعالٰی زاد مَجْدک اپنے لئے چُنا۔ خدائے پاک بڑا برکتوں والا اور بڑا بزرگ ہے وہ تیری بزرگی کو زیادہ کرے گا۔ ینقطعؔ اٰبائک و یبدء منک* تیرے باپ دادے کا ذکر منقطع ہو جائے گا اور تیرے بعد سلسلہ خاندان کا تجھ سے شروع ہوگا۔ وما کان اللّٰہ لیترکک حتّی یمیز الخبیث من الطیّب ۔ اور خدا ایسا نہیں کہ تجھ کو چھوڑ دے جب تک کہ پاک اور پلید میں فرق کرکے نہ دکھلادے۔ اذا جآء نصر اللّٰہ والفتح وتمّت کلمۃ ربّک ۔ ھٰذا اور جب خدا تعالیٰ کی مدد اور فتح آئے گی اور خدا کا وعدہ پُورا ہوگا تب کہا جائے گا کہ یہ الّذی کنتم بہٖ تستعجلون ۔ اَرَدتُ ان استخلف فخلقتُ وہی امر ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے۔ مَیں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں سو مَیں نے ٰادَم ۔ دَنٰی فَتَدَلّٰی فکان قاب قوسین او ادنٰی۔ اس آدم کو پَیدا کیا۔ وہ خدا سے نزدیک ہوا پھر مخلوق کی طرف جھکا اور خدا اور مخلوق کے درمیان ایسا یُحْیِی الدّین ویقیم الشریعۃ ۔ یا اٰدم اسکن انت ہو گیا جیسا کہ دو قوسوں کے درمیان کا خط ہوتا ہے دین کو زندہ کریگا اور شریعت کو قائم کریگا اے آدم وزوجک الجنۃ ۔ یامریم اسکن انت وزوجک الجنۃ تو اور تیرے دوست بہشت میں داخل ہو۔ اے مریم تُو اور تیرے دوست بہشت میں داخل ہو۔ یاد رہے کہ ظاہری بزرگی اور وجاہت کے لحاظ سے اس خاکسار کا خاندان بہت شہرت رکھتا تھا بلکہ اس زمانہ تک بھی کہ اس خاندان کی دنیوی شوکت زوال کے قریب قریب تھی۔ میرے دادا صاحب کے اِس نواح میں بیا۸۲سی گاؤں اپنی ملکیت کے تھے اور پہلے اِس سے وہ والیانِ ملک کے رنگ میں بسر کرتے تھے اور کسی سلطنت کے ماتحت نہ تھے۔ اور پھر رفتہ رفتہ حکمت اور مشیت ایزدی سے سکّھوں کے زمانہ میں چند لڑائیوں کے بعد سب کچھ کھو بیٹھے اور صرف چھ۶ گاؤں اُن کے قبضہ میں رہے اور پھر دو گاؤں اور ہاتھ سے جاتے رہے اور صرف چار گاؤں رہ گئے