لخلق اللّٰہ ولا تسئم من النّاس ۔ ووسّع مکانک ۔
کہ تو لوگوں کی کثرت ملاقات سے تھک نہ جائے۔ اور تجھے لازم ہے کہ اپنے مکان کو وسیع کرے تا لوگ جو کثرت سے آئیں گے
وبشّر الّذین اٰمنوا انّ لھم قدم صدق عند ربّھم ۔
انکو اُترنے کیلئے کافی گنجائش ہو اور ایمان والوں کو خوشخبری دے کہ خدا کے حضور میں اُنکا قدم صدق پر
وَاتْلُ علیھم مَا اُوْحِیَ اِلَیْکَ من رَبِّکَ ۔ اصحاب الصّفّۃ ۔
ہے اور جو کچھ تیرے رب کی طرف سے تیرے پر وحی نازل کی گئی ہے وہ ان لوگوں کو سُنا جو تیری جماعت میں داخل ہونگے
و ؔ ما ادراک ما اصحاب الصفّۃ ۔ ترٰی اعینھم تفیض
صفّہ کے رہنے والے اور تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں صفّہ کے رہنے والے۔ تو دیکھے گا کہ اُنکی آنکھوں سے آنسو
من الدَّمْعِ۔ یُصلّون علیک۔ ربّنا انّنا سمعنا منادیًا
جاری ہوں گے۔ وہ تیرے پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ہم نے ایک منادی کرنے والے
ینادی للایمان ۔ وداعیًا الی اللّٰہ وسراجًا منیرًا۔ یا اَحْمَدُ
کی آواز سُنی ہے جو ایمان کی طرف بلاتا ہے اور خدا کی طرف بلاتا ہے اور ایک چمکتا ہوا چراغ ہے۔ اے احمد تیرے
فاضت الرّحمۃ علٰی شفتیک ۔ انّک باعیننا۔ سمّیتک
لبوں پر رحمت جاری کی گئی۔ تُو میری آنکھوں کے سامنے ہے مَیں نے تیرا نام
المتوکّل ۔ یرفع اللّٰہ ذکرک ویتمّ نعمتہٗ علیک فی الدنیا
متوکّل رکھا ہے۔ خدا تیرا ذکر بلند کرے گا۔ اور اپنی نعمت دنیا اور آخرت میں تیرے پر
والاٰخر ۃ ۔ بورکت یا احمد وکان مابارک اللّٰہ فیک
پوری کرے گا۔ اے احمد تُو برکت دیا گیا اور جو کچھ تجھے برکت دی گئی وہ تیرا ہی
حقّافیک ۔ شانک عجیب ۔ واجرک قریب ۔ الارض والسّماء
حق تھا۔ تیری شان عجیب ہے۔ اور تیرا اجر قریب ہے۔ آسمان اور زمین
معک کما ھو معی ۔ انت وجیہ فِی حضرتی اخترتک
تیرے ساتھ ہیں جیسے کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔ تو میری درگاہ میں وجیہ ہے مَیں نے تجھے