دیکھتے ہیں۔ پس یہی وہ امر ہے جس نے مجھے اِس بات پر آمادہ کیا کہ میں اِس فرق کو حق کے طالبوں پر ظاہر کروں۔ سو مَیں اِس کتاب کو چار ۴ باب پر منقسم کرتا ہوں۔ باب اوّ۱ل اُن لوگوں کے بیان میں جن کو بعض سچی خوابیں آتی ہیں یا بعض سچے الہام ہوتے ہیں لیکن اُن کو خدا تعالیٰ سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ باب دوم۲ اُن لوگوں کے بیان میں جن کو بعض اوقات سچی خوابیں آتی ہیں یا سچے الہام ہوتے ہیں اور اُن کو خدا تعالیٰ سے کچھ تعلق تو ہے لیکن بڑا تعلق نہیں۔ باب سوم۳ اُن لوگوں کے بیان میں جو خدا تعالیٰ سے اکمل اور اصفٰی طور پر وحی پاتے ہیں اور کامل طور پر شرف مکالمہ اور مخاطبہ ان کو حاصل ہے اور خوابیں بھی اُن کو فلق الصبح کی طرح سچی آتی ہیں اور خدا تعالیٰ سے اکمل اور اتم اور اصفٰی تعلق رکھتےؔ ہیں جیسا کہ خدا تعالیٰ کے پسندیدہ نبیوں اور رسولوں کا تعلق ہوتا ہے۔ باب چہارم۴ اپنے حالات کے بیان میں یعنی اِس بیان میں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم نے مجھے اِن اقسام ثلاثہ میں سے کِس قسم میں داخل فرمایا ہے۔ اَب ہم اس مضمون کو ذیل کے ہر چہار باب میں لکھتے ہیں۔ وما توفیقی الّا باللّٰہ۔ ربّنا اھدنا صراطک المستقیم، وھب لنا من عندک فہم الدین القویم۔ وَعلّمنا من لدنک علمًا (آمین) باب اوّل اُن لوگوں کے بیان میں جن کو بعض سچی خوابیں آتی ہیں یا بعض سچے الہام ہوتے ہیں لیکن اُن کو خدا تعالیٰ سے کچھ بھی تعلق نہیں اور اُس روشنی سے اُن کو ایک ذرّہ حصّہ نہیں ملتا جو اہل تعلق پاتے ہیں اور نفسانی قالب اُن کا تعلق نور سے ہزارہا کوس دور ہوتا ہے واضح ہو کہ چونکہ انسان اس مطلب کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کو شناخت کرے اور اُس کی ذات اور صفات پر ایمان لانے کیلئے یقین کے درجہ تک پہنچ سکے اِس لئے خدا تعالیٰ نے انسانی دماغ کی بناوٹ کچھ ایسی رکھی ہے کہ ایک طرف تو معقولی طور پر ایسی قوتیں اس کو عطا کی گئی ہیں جن کے