ذریعہ سے انسان مصنوعات باری تعالیٰ پر نظر کرکے اور ذرّہ ذرّہ عالم میں جوجو حکمت کاملہ حضرت باری عزّاسمہٗ کے نقوش لطیفہ موجود ہیں اور جو کچھ ترکیب ابلغ اور محکم نظامِ عالم میں پائی جاتی ہے۔ اُس کی تہ تک پہنچ کر پوری بصیرت سے اِس بات کو سمجھ لیتا ہے کہ یہ اتنا بڑا کارخانہ زمین و آسمان کا بغیر صانع کے خود بخود موجود نہیں ہو سکتا بلکہ ضرور ہے کہ اس کا کوئی صانع ہو اور پھر دوسری طرف روحانی حواس اور روحانی قوتیں بھی اس کو عطا کی گئی ہیں تا وہ قصور اور کمی جو خدا تعالیٰ کی معرفت میں معقولی قوتوں سے رہ جاتی ہے روحانی قوتیں اس کو پورا کر دیں۔ کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ محض معقولی قوتوں کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی شناخت کامل طور پر نہیں ہو سکتی وجہ یہ کہ معقولی قوتیں جوؔ انسان کو دی گئی ہیں اُن کا تو صرف اس حد تک کام ہے کہ زمین و آسمان کے فرد فرد یا ان کی ترتیب محکم اور ابلغ پر نظر کرکے یہ حکم دیں کہ اس عالم جامع الحقائق اور پُر حکمت کا کوئی صانع ہونا چاہئے۔ یہ تو اُن کا کام نہیں ہے کہ یہ حکم بھی دیں کہ فی الحقیقت وہ صانع موجود بھی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ بغیر اِس کے کہ انسان کی معرفت اس حد تک پہنچ جائے کہ درحقیقت وہ صانع موجود ہے۔ صرف ضرورتِ صانع کو محسوس کرنا کامل معرفت نہیں کہلا سکتی کیونکہ یہ قول کہ ان مصنوعات کا کوئی صانع ہونا چاہئے اس قول سے ہر گز برابر نہیں ہو سکتا کہ وہ صانع جس کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے فی الحقیقت موجود بھی ہے۔ لہٰذا حق کے طالبوں کو اپنا سلوک تمام کرنے کیلئے اور اُس فطرتی تقاضا کو پورا کرنے کیلئے جو معرفت کاملہ کیلئے ان کی طبائع میں مرکوز ہے اِس بات کی ضرورت ہوئی کہ علاوہ معقولی قوتوں کے روحانی قویٰ بھی اُن کو عطا ہوں تا اگر ان روحانی قوتوں سے پورے طور پر کام لیا جائے اور درمیان میں کوئی حجاب نہ ہو تو وہ اُس محبوب حقیقی کا چہرہ ایسے صاف طور پر دکھلا سکیں جس طور سے صرف عقلی قوتیں اس چہرہ کو دکھلا نہیں سکتیں۔ پس وہ خدا جو کریم و رحیم ہے جیسا کہ اُس نے انسانی فطرت کو اپنی کامل معرفت کی بھوک اور پیاس لگا دی ہے ایسا ہی اُس نے اس معرفت کاملہ تک پہنچانے کے لئے انسانی فطرت کو دو۲ قسم کے قویٰ عنایت فرمائے ہیں ایک معقولی قوتیں جن کا منبع دماغ ہے اور ایک روحانی قوتیں جن کا منبع دل ہے اور جن کی صفائی دل کی صفائی پر موقوف ہے اور جن باتوں کو معقولی قوتیں کامل طور پر دریافت