اِس دعا کا ماحصل یہ ہے کہ نشان کے طور پرکوئی ؔ اور بلا آریوں پر نازل ہو۔
یہ پیشگوئیاں ہیں جو آریہ سماج کے حق میں کی گئی تھیں۔ سو ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ وہ کیسے کھلے کھلے طور پر ظہور میں آگئی ہیں۔ اور آریہ سماج کا نحس ستارہ ظاہر ہوگیا۔ چنانچہ اُن کے مطابق قادیان کی آریہ سماج کے پر جوش ممبر جو اخبار شبھ چنتک کو چلاتے تھے طاعون کے ایک ہی طمانچہ سے سب کے سب ہلاک ہو گئے جیسا کہ کتاب ’’نسیم دعوت‘‘ میں اُن کا طاعون سے ہلاک ہونا پانچ برس پہلے بتلایا گیا تھا اور دوسرے مقامات کے آریہ پنجاب کے آریوں میں سے جو سرگروہ کہلاتے تھے جن کی شوکت اور شان کی وجہ سے آریہ لوگ شوخ دیدہ ہو گئے تھے اکثر اُن کے اپنے باغیانہ خیالات سے سزایاب ہو گئے اور بعض اس گورنمنٹ کے قلمرو سے باہر نکالے گئے۔ افسوس کہ اِن لوگوں نے انگریزی سلطنت کے ہزارہا احسان دیکھ کر پھر نمک ّ*** کی اور بغاوت کے کلمات سے سخت بد ذاتی دکھلائی۔ مگر ضرور تھا کہ وہ پیشگوئیاں پوری ہوتیں جو آج سے پا۵نچ بر س پہلے ان لوگوں کے زوال اور تباہی کی نسبت بتلائی گئی تھیں۔ اب یقیناًسمجھو کہ آریہ سماجیوں کا خاتمہ ہے۔ اور جیسا کہ خدا نے دعوی کیا تھا وہ پورا ہوا۔ کیا انسان کی طاقت ہے کہ قبل از وقت ایسی پیشگوئیاں کر سکے؟ پس اُس خدا کا ہزار ہزار شکر ہے اور تمام حمد اور جلال اُسی کو مسلّم ہے جو اسلام کی تائید میں ایسے بڑے بڑے نشان ظاہر کرتا ہے۔ وَالسَّلام عَلٰی من اتّبع الھُدٰی۔
مَیں اِس قدر لکھ چکا تھا کہ آج ۱۲؍مئی ۱۹۰۷ء روز یکشنبہ کو ایک شخص مجھ کو کشفی طور پر دکھلایا گیا مگر مَیں اُس کی شکل بھول گیا صرف یہ یاد رہاکہ وہ ایک سخت دشمن ہے کہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں گالیاں دیتا ہے۔ اور سخت بد زبانی کرتاہے۔ بعد اسکے الہام ہوا۔ بدی کا بدلہ بدی ہے اُس کو پلیگ ہو گئی۔ یعنی ہو جائے گی۔ پس مَیں یقین کرتاہوں کہ جلد یا کچھ دیر سے تم سنو گے کہ کوئی ایسا سخت دشمن پلیگ کا شکار ہو جائے گا۔ اگر ایسا کوئی دشمن جس پر تمہارے دل بول اُٹھیں کہ یہ الہام کا مصداق ہو سکتا ہے طاعون میں مبتلا نہ ہوا تو تمہارا حق ہے کہ تم تکذیب کرو۔ بعد اِس کے مجھے دکھلایا گیا کہ مُلک میں بہت غفلت اور گناہ