مسمّیسومراج اور اچھر مل اور بھگت رام نے قادیان میں ایک اخبار نکالا اور اُس کا نام شبھ چنتک رکھا اور اُس میں گالیاں دینا اور بد زبانی کرنا اپنا فرض سمجھا۔ مگر خدا نے ایک مُدت سے کئی بار مجھے خبر دے رکھی تھی کہ آریہ سماج کی عمر اَب خاتمہ پر ہے۔ چنانچہ مَیں نے اپنی کتاب تذکرۃ الشہادتین کے صفحہ ۶۶ میں جو ۱۶؍اکتوبر ۱۹۰۳ء میں شائع ہوئی تھی خدا تعالیٰ سے الہام پاکر پیشگوئی مندرجہ ذیل جو صفحہ ۶۶ کی سطر ۷و۸ میں ہے شائع کی تھی۔ اور وہ یہ ہے وہ مذہب (یعنی آریہ مذہب) مُردہ ہے اِس سے مت ڈرو۔ ابھی تم میں سے لاکھوں اور کرڑوں انسان زندہ ہوں گے کہ اِس مذہب آریہ کو نابود ہوتے دیکھ لوگے۔
اِسی طرح میں نے اپنی کتاب نسیم دعوت کے صفحہ ۴ و ۵ میں جو آریوں کے مقابل پر ۲۸؍فروری ۱۹۰۳ء کو لکھی گئی مندرجہ ذیل پیشگوئی آریوں کے حق میں کی تھی اور وہ یہ ہے۔ ہر ایک جوش محض قوم اور سو سائٹی کے لئے دکھلاتے ہیں خدا کی عظمت اِن لوگوں کے دِلوں میں نہیں۔ قادیان کے آریہ خیال کرتے ہیں کہ ہم طاعون کے پنجہ سے رہائی یاب ہو گئے ہیں مگر کیا یہ بدزبانیاں اور بے ادبیاں خالی جائیں گی؟ سنو اے غافلو! ہمارا اور اُن راست بازوں کا تجربہ ہے جو ہم سے پہلے گذر چکے ہیں کہ خدا کے پاک رسولوں کی بے ادبی کرنا اچھا نہیں۔ خدا کے پاس ہر ایک بدی اور شوخی کی سزا ہے۔
اور پھر مَیں نے اپنی کتاب قادیان کے آریہ اور ہم میں جو ۲۰؍ فروری ۱۹۰۷ء کو شائع ہوئی ہے اس کے صفحہ ۲۱ و ۲۲ میں یہ پیشگوئی شائع کی تھی۔ یہ لوگ نبیوں کی تکذیب میں جن کی سچائی سورج کی طرح چمکتی ہے حد سے بڑھ گئے ہیں خدا جو اپنے بندوں کے لئے غیرت مند ہے ضرور اِس کا فیصلہ کرے گا اور وہ ضرور اپنے پیارے نبیوں کے لئے کوئی ہاتھ دکھلائے گا۔ پھرمیں نے اِسی رسالہ قادیان کے آریہ اور ہم کی نظم میں یعنی صفحہ ۵۴ میں یہ پیشگوئی کی ہے۔
شرم و حیا نہیں ہے آنکھوں میں ان کے ہر گز
وہ بڑھ چکے ہیں حد سے اب انتہایہی ہے
ہم نے ہے جس کو مانا قادر ہے وہ توانا
اُس نے ہے کچھ دکھانا اُس سے رجا یہی ہے
اِس پیشگوئی کا ماحصل یہی ہے کہ خدا اِن لوگوں کوکوئی ہاتھ دکھائے گا۔ پھر اسی کتاب کے ٹائٹل پیج کے صفحہ ۲ میں یہ شعر ہے
میرے مالک تو ان کو خود سمجھا
آسماں سے پھر اک نشاں دکھلا