اورؔ شوخی پھیل گئی ہے اور لوگ تکذیب سے باز آنے والے نہیں جب تک خدا پنا قوی ہاتھ نہ دکھلادے۔ بعد اس کے الہام ہوا۔ اُس کا نتیجہ سخت طاعون ہے جو مُلک میں پھیلے گی۔ کئی نشان ظاہر ہوں گے۔ کئی بھاری دشمنوں کے گھر ویران ہو جائیں گے۔ وہ دُنیا کو چھوڑ جائیں گے۔ ان شہروں کو دیکھ کر رونا آئے گا وہ قیامت کے دن ہوں گے زبردست نشانوں کے ساتھ ترقی ہوگی۔ ایک ہولناک نشان یعنی ان میں سے ایک ہولناک نشان ہوگا۔ شاید وہی زلزلہ ہو جس کا وعدہ ہے یا آسمان سے کوئی اور نشان ظاہر ہو۔ یا طاعون قیامت کا نمونہ دکھلاوے۔ پھر خدا تعالیٰ مجھے مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ میری رحمت تجھ کو لگ جائے گی اللہ رحم کرے گا۔ اَعْیَیْنَاکَ یعنی ہم اِس قدر نشان دکھلائیں گے کہ تو دیکھتے دیکھتے تھک جائے گا۔
اور پھر ۱۳؍ مئی ۱۹۰۷ء روز دوشنبہ کو الہام ہوا۔
سننجیک۔ سنعلیک۔ سنکرمک اکرامًا عجبًا۔ یعنی ہم عنقریب تجھ کو دشمنوں کے شرّ سے نجات دیں گے۔ اور ہم تجھے اُن پر غالب کر دیں گے۔ اور ہم تجھے ایک عجیب طور پر بزرگی دیں گے۔ اور در حقیقت وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں محض خدا کے نشانوں سے شناخت کئے جاتے ہیں اگر خدا اپنے ہاتھوں سے فیصلہ نہ کرے تو صِرف باتوں سے کوئی
فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
تمّت
۱۵؍مئی ۱۹۰۷ء