ہو چکے ہیں وحی کا نازل ہونا خلاف مذہب قرآن و حدیث ہے۔ اور مرزا صاحب کے اِس دعویٰ کی تردید کرتا ہوں کہ وہ مثیل و مسیح موعود ہیں اور منشی مہتاب علی صاحب خلف الرشید منشی کریم بخش صاحب سکنہ شہر جالندھر جو کہ مرزا صاحب موصوف کے تابع ہیں۔ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو شخص اُن کے اِس دعویٰ کی تردید کرے اُس پر عذابِ الٰہی نازل ہوگا۔ لہٰذا مَیں یہ دعاکرتا ہوں کہ ہم دونوں فریقوں میں سے جو شخص جھوٹا ہے اُس پر عذاب الٰہی نازل ہو مثل موت یا بیماری طاعون یا مقدمہ میں گرفتاری اور مَیں بمطابقت سنتؔ نبوی کے ایک سال کی میعاد ٹھہراتا ہوں اور یہ شرط کرتا ہوں کہ اگر یہ عذاب میرے یا منشی مہتاب علی کے بغیر کسی اور شخص قرابتی پر ہو تو یہ شرط میں داخل نہ ہوگا۔ واٰخر دعوانا ان الحمدللّٰہ ربّ العالمین۔ وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ محمدٍ واٰلہٖ و اصحابہٖ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
قاضی فیض اللہ خاں سکنہ جنڈیالہ باغوالہ ضلع گوجرانوالہ مورخہ ۱۲؍جون ۱۹۰۶ء
تحریر دستخطی منشی مہتاب علی
بِسْم اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحمدہٗ وَ نُصَلِّیْ
مَیں حضرت اقدس حضرت مرزا غلام احمد کوسچا مسیح سمجھتا ہوں اور اُن کاہرایک دعویٰ جو دین کے متعلق ہے بلا کسی شک و شبہ کے صحیح مانتا ہوں مگر میرے مقابلہ پر قاضی فیض اللہ خلف الرشید قاضی ظفر الدین مرحوم یقین کے ساتھ کہتاہے کہ مرزا صاحب جھوٹا اور اُن کا دعویٰ بالکل گھڑا ہوا اور خود تراشیدہ ہے۔ اِس لئے مَیں قاضی صاحب کے مقابلہ میں مباہلہکرتا ہوں اور پورا پورا اورکامل یقین مجھے ہے کہ جوہر دو میں سے جھوٹا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اُس پر عذاب الیم نازل کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں گے لیکن یہ عذاب یقیناًنہیں ٹلے گا اور وہ اپنی چمکار دِکھاکررہے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہ قانون جاری ہے اور آخری و بہتر اور اولیٰ طریق کذب اور راستی میں تفریق کرنے کا ہے۔پس خدا سے میری دعا ہے کہ وہ جلد تر نتیجہ پیدا کرے۔ اے خدا اے خدا تجھ سے کوئی انہونی بات نہیں۔ اگر تو چاہے توایک آن میں عذاب نازل کرسکتا ہے لیکن میں سنت نبوی کے مطابق ایک سال کی میعاد تجویزکرتا ہوں اور وہ عذاب محض