مجھ عاجز پراور یاقاضی صاحب پرنازل ہونا چاہئے مثلاً موت یا طاعون یا کسی مقدمہ میں ماخوذ ہوجانا یہی شرط ہے اور کسی قرابتی اوراپنے کسی متعلق پرکوئی عذاب نازل ہونایااُس کا مر جانا شرط میں داخل نہ ہوگا اوروہ عذاب صرف ہم دونوں سے مخصوص سمجھا جائے گا۔ خاکسار عاجز مہتاب علی سیاح جالندھری مورخہ ۱۲؍جون ۱۹۰۶ء اِن بالمقابل تحریروں کے بعد جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں نتیجہ یہ ہوا کہ قاضی فیض اللہ خاں مرض طاعون کے ساتھ جیسا کہ جھوٹے کے لئے بد دعا کی گئی تھی اورنیز سال کے اندر جیسا کہ شرط تھی بمقام جموں ہلاک ہو گیا اور بموجب آیت کریمہ 33 ۱؂ مہتاب علی کو خدا نے طاعون سے بچا لیا کیونکہ وہ اپنے دعوے میں صادق تھا۔ اور فیض اللہ خان طاعون کا شکار ہوگیاکیونکہ وہ اپنے دعوے میں کاذب تھا * * نکتہ قابل یاد داشت:۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے 33 33 3۲؂ اس آیت سے قطعی اور یقینی طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کھلی کھلی پیشگوئیاں جو مقدار میں زیادہ اور صفائی میں اوّل درجہ پر ہوں صرف خدا کے برگزیدوں کو ہوتی ہیں دوسرے آدمی ان میں شریک نہیں ہوتے۔ اور جو اِس درجہ پر الہام نہیں وہ دوسروں کو بھی ہو سکتے ہیں اور اکثر اُن میں مہمل اور متشابہ الہام ہوتے ہیں۔ پس اسی مقابلہ سے بر گزیدے لوگ شناخت کئے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس آیت کی رو سے اس بات کا جواز پایا جاتا ہے کہ وہ الہامی پیشگوئیاں جو اِس آیت کے منشاء کے مطابق کھلی کھلی نہ ہوں اور نیز اپنے مقدار میں انسانوں کی معمولی حالت سے بڑھ کر نہ ہوں اور متشابہات کا حصہ اُن پر غالب ہو۔ ایسی الہامی پیشگوئیاں اور ایسے الہام اُن لوگوں کو بھی ہو سکتے ہیں جو خدا کے برگزیدہ نہیں ہیں اور معمولی انسانوں میں سے ہیں۔ پس برگزیدوں کی شناخت کے لئے قرآن شریف میں بھی یہی معیار ہے کہ ان کی الہامی پیشگوئیوں میں متشابہات کا حصہ کم ہو اور اپنی کثرت پر نہیں ہے۔ مثلاً نظیر کے طور پر ہم بیان کرتے ہیں کہ براہین احمدیہ کی یہ پیشگوئی کہ یأ تیک من کلّ فجٍّ عمیق۔ یأ تون من کلّ فجٍّ عمیق۔ جس پر چھبیس۶ ۲برس گزر چکے ہیں ایسے کھلے کھلے طور پر پوری ہوئی ہے کہ نہ ایک دفعہ بلکہ لاکھوں دفعہ اُس نے اپنی سچائی ثابت کر دی ہے جس میں تائید اور نصرت الٰہی بھری ہوئی ہے۔ پس ایسی پیشگوئی بجز خدا کے کسی خاص برگزیدہ کے دوسروں سے ہر گز ظہور میں نہیں آسکتی۔ اگر آسکتی ہے تو کوئی اِس کی نظیر پیش کرے۔ منہ