فیصلہؔ بذریعہ مُباہلہ کاایک اور تازہ نشان
*
نشان۔ ۲۰۷۔ ذیل میں وہ مباہلہ درج کیا جاتا ہے جو ہماری جماعت کے ایک ممبر منشی مہتاب علی صاحب نے فیض اللہ خان بن ظفر الدین احمد سابق پروفیسر اورینٹل کالج لاہور کے ساتھ ۱۲؍جون ۱۹۰۶ء کو کیا تھا۔ اور جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فیض اللہ خان اپنی خواہش کے مطابق مرض طاعون میں گرفتار ہو کر ۱۳؍اپریل ۱۹۰۷ء مطابق یکم بیساکھ سم۱۹۶۳ میں نہ صرف خود ہی ہلاک ہوا بلکہ اپنے بعض دیگر عزیزوں کو بھی لے ڈوبا۔
اِس جگہ اس بات کا ذکر بھی فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ اس شخص فیض اللہ خاں کا باپ قاضی ظفر الدین بھی ہمارے سلسلہ کا سخت مخالف تھا اور جب اُس نے اِس سلسلہ کے بر خلاف ایک عربی نظم لکھنی شروع کی*تو ہنوز اُسے پورا نہ کر چکا تھا اور مسودہ اُس کے گھر میں تھا۔ چھاپنے تک نوبت نہ پہنچی تھی کہ وہ مر گیا۔ اب اس مباہلہ کی تحریر کی عبارت طرفین کی نقل کی جاتی ہے۔ دونوں فریق کی دستخطی تحریریں ہمارے پاس موجود ہیں۔
تحریر دستخطی فیض اللہ خان
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم
الحمد لِلّٰہ الّذی لا یضرّمع اسمہ شئ فی الارض ولا فی السماء
وھو السمیع العلیم۔
بعد حمدو صلوات برسول رب العالمین کے مَیں قاضی فیض اللہ خان بن قاضی ظفر الدین احمد مرحوم ایک مسلمان حنفی سُنت نبویہ کا پورا تابعدار اس بات کا قائل ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو کہ خاتم النبیین
* ایک قصیدہ مَیں نے عربی میں تالیف کیا تھا جس کا نام اعجاز احمدی رکھا تھا اور الہامی طور پر بتلایا گیا تھا کہ اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا اور اگر طاقت بھی رکھتا ہوگا تو خدا کوئی روک ڈال دے گا۔پس قاضی ظفر الدین جونہایت درجہ اپنی طینت میں خمیر انکار اور تعصّب اورخود بینی رکھتا تھا اُس نے اِس قصیدہ کا جواب لکھنا شروع کیا تا خدا کے فرمودہ کی تکذیب کرے۔ پس ابھی وہ لکھ ہی رہا تھا کہ ملک الموت نے اُس کاکام تمام کردیا۔ منہ