کر رکھی تھیں۔ پس خدا سے ڈرو اور پہلے بد قسمت مُنکروں کی طرح خدا کے مُرسل کو اِس بنا پر ردّ مت کرو کہ تم نے اُس میں وہ تمام مقرر کردہ علامتیں نہ پائیں اور یقیناًیاد رکھو کہ یہ بات کسی کو بھی نصیب نہیں ہوئی کہ اُن کی تمام مقررکردہ علامتیں آنے والے نبی میں پائی جائیں اِسی لئے اُنہوں نے ٹھوکریں کھائیں اور جہنم میں پڑے ورنہ تمام علامتیں پاکر پھر انکار کرنا انسان کی فطرت میں داخل نہیں۔ کوئی بات ٹھوکر کھانے کی ہوتی ہے جس سے بد قسمت انسان ٹھوکر کھاتا ہے۔ یہود کا گمان تھا کہ مسیح آنے والا ایک بادشاہ کی صورت میں آئے گا اور اس سے پہلے الیاس نبی دوبارہ آسمان سے نازل ہوگا۔ پس اِسی وجہ سے آج تک اُنہوں نے حضرت عیسیٰ کو ؔ قبول نہیں کیا کیونکہ نہ تو اُن سے پہلے الیاس نبی آسمان سے اُترا اور نہ حضرت عیسیٰ بادشاہ ہوئے کوشش تو کی گئی مگر اُس میں ناکام رہے اور پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہودیوں کے عالموں بلکہ اُن کے تمام نبیوں نے بھی یہی سمجھ رکھا تھا کہ وہ آخرالزمان نبی بنی اسرائیل میں سے پیدا ہوگا۔ مگر ایسا ظہور میں نہ آیا بلکہ وہ نبی بنی اسماعیل میں سے پیدا ہو گیا۔ تب لاکھوں یہودی دولتِ قبول سے محروم رہ گئے۔ اگر خدا چاہتا تو ایسی صراحت سے علامتیں بیان کر دیتا کہ یہودی ٹھوکر نہ کھاتے مگر جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ صراحت نہیں کی گئی تو پھر اور کِس کے لئے کی جاتی۔ پس یاد رکھو کہ ایسی پیشگوئیوں میں امتحان بھی مقصود ہوتا ہے۔ جو لوگ عقل سلیم رکھتے ہیں وہ اس امتحان کے وقت تباہ نہیں ہوتے اور روایات کو صرف ایک ظنی ذخیرہ خیال کر لیتے ہیں اور یہ بھی سمجھ لیتے ہیں کہ اگر کوئی روایت یا حدیث صحیح بھی ہو تب بھی اس کے معنی کرنے میں غلطی ہو سکتی ہے۔ پس وہ تمام مدارشناخت کا خدا کی نصرت اور خدا کی تائید اور خدا کے نشانوں اور شہادتوں کو قرار دیتے ہیں اور جس قدر علامتیں روایتوں کے ذریعہ سے میسر آگئی ہیں اُن کوکافی سمجھتے ہیں اور باقی روایتوں کو ایک ردّی متاع کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ یہی طریق سعید فطرت یہودیوں نے اختیار کیا تھا جو مسلمان ہو گئے تھے اور یہی طریق ہمیشہ سے راست بازوں کا چلا آیا ہے اور اگر راست بازوں اور خدا ترسوں