کا یہ طریق نہ ہوتا تو ایک نفس بھی یہودیوں اور عیسائیوں میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لا سکتا اور نہ کوئی یہودی حضرت عیسیٰؑ کو قبول کر سکتا۔ بہت سے یہودی اِس مُلک میں رہتے ہیں۔ اُن کو پوچھ کر دیکھ لو کہ کیوں وہ لوگ حضرت عیسیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے آخر وہ دیوانہ نہیں ہیں کوئی عذر تو اُن کے پاس ہے۔ پس تم یاد رکھو کہ اُن کی طرف سے تم یہی جواب پاؤ گے کہ وہ علامتیں جو اُن کی احادیث اورروایتوں میں لکھی تھیں پوری نہیں ہوئیں اور اس طرح پر وہ اِس ضد پر قائم رہ کرو اصل جہنم ہو گئے اور ہوتے جاتے ہیں۔ اب جبکہ ثابت ہوا کہ تمام قرار دادہ علامتوں کا پورا ہونا شرط ایمانؔ قرار دینا جہنم کی راہ ہے جس کی وجہ سے کئی لاکھ یہودی واصل جہنم ہو چکے تو اس راہ کو تم کیوں اختیار کرتے ہو۔ مومن کو چاہئے۔ کہ دوسرے کے حالات سے عبرت پکڑے کیا تم تعجب کرتے ہو کہ جس امتحان میں خدا تعالیٰ نے یہودیوں کو ڈالا تھا وہی امتحان تمہارا بھی کیا گیا ہو۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے 3 3 ۱؂ ۔ یقیناًسمجھو کہ یہ کاروبار خدا کا ہے نہ انسان کا۔ پس قبول کرنے میں سابقین میں داخل ہو جاؤ۔ اور خدا سے مت لڑو کہ اُس نے ایسا کیوں کیا اور اگر تم تقویٰ کی نظر سے دیکھو تو تم سمجھ سکتے ہو کہ جس قدر تم نے مخالف روایات کو مضبوط پکڑ لیا ہے عقل اور انصاف تم پر یہ واجب نہیں کرتا کہ تم ضرور ایسا کرو۔ کیونکہ وہ سب مجموعۂ ظنّیات ہے کہ جو احتمال کذب بھی رکھتا ہے اور قابلِ تاویل بھی ہے پس اپنی جانوں پر رحم کرو یقین کے پہلو کو کیوں چھوڑتے ہو۔ کیا ظن یقین کے ساتھ برابر ہو سکتا ہے۔ کیا ممکن نہیں کہ وہ روایتیں صحیح نہ ہوں جن کو تم صحیح سمجھتے ہو یا اور معنی ہوں۔ کیا وہ بلاجو یہودیوں کو تمام علامتوں پر ضد کرنے سے پیش آئی وہ تمہیں پیش نہیں آسکتی سو تم اُن کی لغزشوں سے فائدہ اُٹھا لو۔ یادرکھو کہ قرآن کریم کی نصوص قطعیۃ الدلالت سے کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسیٰ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں بلکہ اُن کی موت ثابت ہوتی ہے پس جس کو قرآن مارتا ہے اُس کو تم کیوں زندہ کہتے ہو۔ نبی آسمان پر زندہ تو ہیں مگر سب کی یکساں زندگی ہے عیسیٰ کے لئے کوئی