مرد میداں باش و حال ما ببیں
نصرتِ آن ذوالجلالِ ما ببین
طعنہ ہابے امتحان نامردی است
امتحان کُن پس مآلِ ما ببین
اے عزیز عباد الرحمن کی نسبت جلدی سے بد ظنی کرنا جائز نہیں۔ جن لوگوں نے پہلے برگزیدوں کی نسبت بد ظنیاں کیں اُنہوں نے کیا پھل پایا۔ اور یہ خیال بھی اپنے دلوں میں سے نکال دو کہ جب تک وہ تمام علامتیں مسیح موعود اور مہدی معہود کی (جو صرف ظنی روایات کی بناء پر تمہارے دلوں میں ہیں) پوری نہ ہو لیں تب تک قبول کرنا ہرگز روا نہیں۔ یہ قول اُن یہودیوں کے قول سے مشابہ ہے جنہوں نے نہ حضرت عیسیٰ کو قبول کیا اور نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ کیونکہ جو کچھ اپنی روایتوں کی بناء پر نشانیاں قرار دی تھیں وہ سب پوری نہ ہوئیں۔ پس کیا تم گمان کرتے ہو کہ وہ تمہاری قرار دادہ علامتیں پوری ہو جائیں گی۔ نہیں بلکہ ایسی پیشگوئیوں میں ایک امتحان بھی مخفی ہوتا ہے اور خُدا تمہیںآزماتا ہے کہ تم اُسکے نشانوں کو عزّت کی نگہ سے دیکھتے ہو یا نہیں۔ تمام روایات کب سچی ہو سکتی ہیں بہت سی جھوٹی باتیں مل جاتی ہیں اُ ن پر پورا تکیہ کرنا خطرناک امر ہے۔
یہ تو بتلاؤ کہ کس نبی کی نسبت مقرر کردہ علامات پوری ہو گئیں جوپہلی قوم نے مقرر
بقیّہ حاشیہ۔ کتاب بجلی آسمانی کے صفحہ ۱۰۷ میں یہ چند شعر لکھتے ہیں۔ مرزا مویا خوشیوں مینوں راتیں نیند نہ آئی مرزا گذر گیا۔ مرزا مویا بے شک جانو مَیں ہن نصرت پائی مرزا گذر گیا۔ یعنی بے شک مرزا مر جاویگا اور مجھے فتح ہوگی اور پھر صفحہ ۱۰۷ کے شعر میں لکھتا ہے کہ طاعون کے پھیلنے کی خبر مرزا نے دی تھی وہ بھی ظہور میں نہ آئی۔ مگر مولوی صاحب کو معلوم نہ تھا کہ خود طاعون سے مریں گے۔ قدرت الٰہی ہے کہ اُنہیں پر بجلی آسمانی گری۔ منہ
* ہم ان نشانوں کو دو سو ۲۰۵پانچ پر ختم کر چکے تھے کہ ایک اور رسالہ ہمیں دستیاب ہوا جس نے اِن نشانوں کو دو سو۲۰۶ چھ تک پہنچا دیا۔ اس رسالہ کا نام دُرّہ محمدی ہے اور مصنف کا نام امداد علی ہے۔ اس شخص نے اپنی کتاب کے صفحہ سا۷ت میں میری نسبت یہ شعر لکھا ہے۔ اللہ اجیہے پیغمبر تائیں جلد بجلد سمہالے۔ جس کاذب نے دُنیا اندر بہتیرے چلّے چالے۔ یعنی اس شخص کو خدا جلدی موت دے۔ پھر صفحہ ۸ میں میری نسبت لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین لکھتا ہے اور دُوسرا حصہ کتاب کے بنانے کا وعدہ کرتا ہے اور ابھی دوسرے حصہ کی نوبت نہیں آئی کہ طاعون میں پکڑا گیا اوراپنا گوشت اپنے دانتوں سے کاٹتا تھا۔ آخر اُسی حالت میں مر گیا یہ ہیں مولوی صاحبان جو مجھے جھوٹا ٹھہراتے ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔ منہ