نشان نمبر ۲۰۵۔ پھر ایک اور شخص ابو الحسن نام* نے میرے ردّ میں ایک کتاب بنائی تھی جس کا نام ہے بجلی آسمانی برسرِ دجّال قادیانی جس کے کئی مقامات میں کاذب کی موت کے لئے بد دعا ہے بلکہ فرضی طور پر میری وفات کا وقوع ذکر کرکے پنجابی زبان میں ایک سیاپا لکھا ہے گویا مَیں مر گیا ہوں اور وہ مولوی میرا سیاپا میری موت کے بعد کرتا ہے آخر نتیجہ یہ ہوا کہ مولوی مذکور اِس کتاب کے شائع کرنے کے بعد خود طاعون سے مر گیا۔ پھر ایک اور شخص ابو الحسن عبد الکریم نام نے دوبارہ اس کتاب کو چھپوایا وہ بھی حال کے طاعون کے دِنوں میں طاعون کا شکار ہو گیا۔ تعجب کہ باوجود ان تمام نشانوں کے کوئی سوچتا نہیں کہ جس شخص کے شامل حال اِس قدر نُصرتِ الٰہی ہے وہ کیونکر کاذب ہو سکتا ہے۔
اے پڑھنے والے اِس کتاب کے خدا سے ڈر۔ اور ایک دفعہ اوّل سے آخر تک اس کتاب کو دیکھ اور اس قادر مطلق سے درخواست کر کہ وہ تیرے دل کو سچائی کے لئے کھول دے اور خدا کی رحمت ؔ سے نااُمید مت ہو۔
* اس شخص کا نام محمد جان ہے المعروف مولوی محمد ابو الحسن مؤلف شرح صحیح بخاری المعروف بہ فیض الباری ساکن پنج گرائیں تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ اِس ضلع میں یہ ایک مشہور مولوی تھا وہ اپنی کتاب بجلی آسمانی کے صفحہ نمبر۳ سطر ۱۷ اور سطر ۱۸ کے شعر میں لکھتا ہے کہ میں دعا کرتا ہوں کہ مرزا کی خدا بیخ کنی کرے اور اس کا کچھ بھی باقی نہ رہے اور وہ مر جائے۔ اور پھر اس کتاب کے صفحہ ۱۰۰ سطر ۱۵ میں دوسرے حصہ اس کتاب (یعنی بجلی) آسمانی کا وعدہ کرکے یہ شعر میری نسبت لکھا ہے۔ نبیاں تائیں اس متنبی لائیاں بڑیاں سلّاں۔ دو جے حصے اندر دیکھیں میریاں اُسدیاں گلاں۔ ابھی اس بد قسمت مولوی نے دوسرا حصہ اپنی کتاب بجلی آسمانی کا تیار نہیں کیا تھا کہ طاعون کی بجلی اُس پر پڑ گئی۔ انیس۱۹ دن تک نہایت جان کندنی کی حالت میں رہا آخر بڑے دُکھ کے بعد جان دی اور پھر صفحہ ۱۰۰ سطر ۱۹ میں یہ مولوی صاحب میری نسبت یہ پیشگوئی کرتے ہیں۔ توبہ کر جلدی اے ملحد موت نیڑے ہے آئی۔ اج کل مر دنیا توں غافل ہونا ہے توں راہی۔ یعنی جلدی توبہ کر کہ تیری موت نزدیک آگئی ہے اور اے غافل آج کل ہی تو مر جائے گا اور دنیا سے سفر کرے گا۔ شاید یہ مولوی صاحب کا الہام ہے یا خواب مگر عرصہ دو سال کا گذرا ہے کہ یہ مولوی صاحب آپ ہی طاعون سے مر گئے اور دیکھنے والوں نے بیان کیا ہے کہ انیس۱۹ دن تک پلیگ میں مبتلا رہ کر چیخیں مارتے رہے اور نہایت دردناک حالت میں جان دی اور پھر یہ مولوی صاحب پیشگوؔ ئی کے طور پر اِسی