پوراہوا کہ آج جو دعائیں قبول ہوئیں اُن میں قوت اور شوکت اسلام بھی ہے اور حضور نے مجھے فرمایا تھا کہ ان دعاؤں میں سے یہ دعا بھی تھی کہ تمہاری گلگت کی تبدیلی ملتوی رہ جائے اور جموں میں تعیّناتی ہو جس کی قبولیت کی اطلاع مل گئی ہے۔سو خدا کا شکر ہے کہ خدا کے فرمودہ کے مطابق ظہور میں آگیا۔ الحمدللّٰہ!الحمدللّٰہ!! خاکسار نابکار سیّدناصر شاہ اورسیئر سب ڈویژنل افسر جموں مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۰۷ء نشان نمبر ۲۰۳۔ تیرہ۱۳ اپریل ۱۹۰۷ء سے چند روز پہلے مجھے یہ الہام ہوا کہ اردت زمان الزلزلۃ چنانچہ یہ الہام بدر اور الحکم دونوں اخباروں میں قبل از وقت شائع کر دیا گیا تھا اور اِس الہام کے معنی یہ تھے کہ اب مَیں پھر زلزلوں کا زمانہ لاؤں گا۔ سو اس کے بعد ایک زلزلہ تو پنجاب میں آیا جس کی نسبت خیر آباد ضلع پشاور سے مجھے خبر ملی کہ وہ سخت زلزلہ اور قیامت کا نمونہ تھا۔ ایساؔ ؔ ؔ ہی لارنس پوراور اَور بہت سے مقامات سے اِس زلزلہ کی خبر ملی اور بہت سے دوستوں نے خط لکھے اور اخبار سول اینڈ ملٹری میں بھی اس کی خبر شائع کی گئی۔ پھر انگریزی اخباروں کے ذریعہ سے معلوم ہوا کہ ایسا ہی اس الہام کے بعد امریکہ اور بعض حصّہ یورپ میں تین سخت زلزلے آئے۔ اور بعض شہر تباہ ہو گئے لیکن چونکہ پیشگوئی میں عموم ہے اس لئے سمجھا جاتا ہے کہ اِسی پر بس نہیں ہوگا بلکہ اور زلزلے بھی آئیں گے کیونکہ خدا فرماتا ہے کہ وہ زمانہ آگیا ہے کہ پھر مَیں زلزلوں کو زمین پر ظاہر کروں گا سو ان زلزلوں کا منتظر رہنا چاہئے۔ خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔ نشان نمبر۲۰۴۔ مولوی عبد المجید ساکن دہلی نے اپنی کتاب بیانٌ للنّاس میں میرا ذکر کرکے اور بالمقابل اپنے تئیں رکھ کر مباہلہ کے طور پر بد دعا کی تھی تا کاذب صادق کی زندگی میں فنا ہو۔ سو وہ میری زندگی میں ناگہانی موت سے مر گیا۔ یہ مقامِ عبرت ہے۔