نہیں ہو سکتے اور جو درخت خشک بھی ہو اور پھر زہریلہ وہ کیونکر محفوظ رکھنے کے لائق ٹھہرسکتا ہے بلکہ وہ سب سے پہلے کاٹا جائے گا۔ اور یہ مت خیال کرو کہ ان تینوں کا طاعون سے مرنا ایک نشان ہے بلکہ یہ تین نشان ہیں۔ اور اب ہم منتظر ہیں کہ اب ان کا جانشین قادیان میں کون ہوتا ہے اور کب وہ ان کی طرح میری نسبت اخبار میں شائع کرتا ہے کہ یہ شخص مکّار اور کاذب ہے اور ہم نے اس کا کوئی نشان نہیں دیکھا۔
اے قادیان کے آریو! خدا تعالیٰ کے غضب سے ڈرو اور جھوٹ بولنے پر کمر بستہ نہ ہوجاؤ۔ وہ ایک دَم میں ظالم اور گستاخ آدمی کو فناکرسکتا ہے۔ وہ عظیم الشان نشان جوتم نے دیکھے اگر کوئی شریف طبع آریہ دیکھتا تو قبول کر لیتا۔ کون انسان یہ پیشگوئی کر سکتا ہے کہ اس کی گمنامی اور کسمپرسی کے زمانہ کے بعد اُس پر ایک ایسا زمانہ بھی آنے والا ہے کہ لاکھوں انسان اُس کے تابع ہو جائیں گے اور مخالفوں کے مکروں سے وہ پیشگوئی نہیں ٹلے گی۔ اور کون ناداری کے زمانہ میں یہ خبر دے سکتا ہے کہ اس پر ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے کہؔ ایک دنیا تحائف اور اموال کے ساتھ اُس کی طرف رجوع کرے گی اور خدا اُن کے دلوں میں الہام کرے گا کہ پورے صدق اور اخلاص سے اُس کی مدد کریں اور اُس کی راہ میں فدا ہوں۔ پس اے آریو! تمہیں معلوم ہے کہ میری گمنامی اور ناداری کے زمانہ میں جبکہ میں دنیا کی نظر سے پوشیدہ تھا خدا نے براہین احمدیہ میں یہی خبریں دی تھیں جو اب میں نے لکھیں اور اُس نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ ہر ایک طرف سے دنیا تیری طرف رجوع کرے گی اور لاکھوں انسان خدمت کے لئے حاضر ہو جائیں گے اور اس قدر لوگ آئیں گے کہ قریب ہے کہ تو اُن کی ملاقات سے تھک جائے یا بد خُلقی کرے اور اُن کے آنے سے راہیں گہری ہو جائیں گی۔ اور ایک زمانہ تیری طرف اُلٹ آئے گا اور دشمن زور لگائیں گے کہ ایسا نہ ہومگر خدا اپنی بات کوپوری کرے گا۔ پس تم سب سے پہلے اس پیشگوئی کے گواہ تھے پر دانستہ اپنی گواہی کو چھپایا۔
اے بے خوف اور سخت دل قوم! کیا تم نے اس عظیم الشان پیشگوئی کو براہین احمدیہ میں نہیں پڑھا اور کیا تم اس کے گواہ نہیں ہو کہ درحقیقت یہ پیشگوئیاں اُس زمانہ کی ہیں کہ جبکہ کوئی عقل یہ رائے