پھر اسی کتاب کے صفحہ ۶۱ میں چندشعر بطور پیشگوئی کے ہیں اور وہ یہ ہیں:۔ اے آریو یہ کیا ہے کیوں دل بگڑ گیا ہے اِن شوخیوں کو چھوڑو راہِ حیا یہی ہے مُجھ کو ہو کیوں ستاتے سو افترا بناتے بہتر تھا باز آتے دور از بلا یہی ہے جس کی دعا سے آخر لیکھو مرا تھا کٹ کر ماتم پڑا تھا گھر گھر وہ میرزا یہی ہے اچھا نہیں ستانا پاکوں کا دل دکھانا گستاخ ہوتے جانا اس کی جزا یہی ہے یعنی جو آریہ لیکھرام کی طرح بد زبانی سے باز نہیں آتا وہ بھی عذاب سے بچ نہیں سکتا۔۱۲ یہ ہیں پیشگوئیاں جو اُس وقت کی گئیں جب اخبار شبھ چنتک کے ایڈیٹر اور منتظم گالیاں دینے میں حد سے بڑھؔ گئے اور خدا نے میرے پر ظاہر کیا کہ اب وہ ہلاک ہونے کو ہیں چنانچہ اکثر وہ الہام اخبار بدر اور الحکم میں بھی شائع ہو گئے۔ تب بعد اِس کے اُن بد قسمتوں کی سزا کا وقت آگیا اور یہ تین آدمی تھے ایک کا نام سوم راج تھا دوسرے کا نام اچھر چند تھا۔ تیسرے کا نام بھگت رام تھا۔ پس خدا کے قہری طمانچہ نے تین دن کے اندر ہی ان کا کام تمام کر دیا۔ اور تینوں طاعون کے شکار ہو گئے۔ اور اُن کی بلا اُن کی اولاد اور اہل و عیال پر بھی پڑی۔ چنانچہ سومراج نہ مرا جب تک اُس نے اپنی عزیز اولاد کی موت طاعون سے نہ دیکھ لی۔ یہ ہے پاداش شرارتوں اور شوخیوں کی۔ مگر ابھی میں نہیں باور کرسکتا کہ باقی ماندہ رفیق ان لوگوں کے جو قادیان میں موجود ہیں شرارتوں سے باز آجائیں گے۔ برگزیدہ نبیوں کی روحیں ان کی بدزبانی اور توہین کی وجہ سے اپنے خدائے قدیرکے آگے فریاد کررہی ہیں۔ پس وہ پاک روحیں بلا شبہ یہ عزت رکھتی ہیں کہ خدا کی غیرت اُن کے لئے بھڑکے۔ اِس لئے یقیناًسمجھو کہ یہ قوم اپنے ہاتھ سے فنا کا بیج بو رہی ہے۔ یاد رہے کہ ناپاک طبع لوگ ہر گز سر سبز بقیہ حاشیہ امرتسر سے لکھتے ہیں اور وہ ہماری جماعت میں داخل نہیں ہیں بلکہ ہمارے مخالفوں کی جماعت میں سے ہیں اور مضمون خط یہ ہے۔ لالہ اچھر چند ورما آریہ قادیان کی طاعونی موت کا حال سُن کر مجھے اُس دن کی گفتگو یاد آئی کہ جو میرے سامنے آپ کے اور لالہ اچھر چندکے درمیان ہوئی تھی جو بالکل درست ہوئی اور وہ اس طرح پر تھی کہ ایک دن لالہ اچھر چند اور آپ کے درمیان حضرت مرزا صاحب کے بارہ میں گفتگو ہو رہی تھی۔ اور اثنائے گفتگو میں آپ نے کہا تھا کہ حضرت مرزا صاحب کا طاعون سے محفوظ رہنا ایک نشان ہے اور کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ میں طاعون سے محفوظ رہوں گا۔ اس پر لالہ اچھر چند نے کہا تھا کہ لو میں بھی مرزا صاحب کی طرح دعویٰ کرتا ہوں کہ میں طاعون سے نہیں مروں گا۔ جس پر اب میں نے اُس کو کہا تھا کہ تو ضرور طاعون سے ہلاک ہوگا۔ سو ایسا ہی ہوا۔ والسلام ۲۴؍اپریل ۱۹۰۷ء ۔