ظاہر نہیں کر سکتی تھی کہ ایسا کبھی ہوجائے گا اور کیا تم کہہ سکتے ہو کہ دنیا میں کوئی انسان ایسی پیشگوئی ایسے گمنامی کے زمانہ میں کر سکتا ہے۔ اگر دنیا میں اس کی کوئی اور بھی نظیر ہے تو پیش کرو۔ ورنہ یقیناًسمجھو کہ خدا کی حجت تم پر پوری ہو چکی اب تم کسی طرف بھاگ نہیں سکتے۔ جو شخص خدا کے نشان کو بے عزتی سے دیکھتا ہے وہ اوّل درجہ کا خبیث فطرت اور ناپاک طبع ہوتا ہے اور نہیں مرتا جب تک کوئی دوسرا غضب کانشان نہ دیکھ لے۔ سو تم شوخیوں سے باز آجاؤ ایسا نہ ہو کہ خدا کا قہر تم پر وارد ہو جاوے اور تم نیست و نابود ہو جاؤ۔ وہ قادر خدا انسان سے تھک نہیں سکتا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ کوئی اور نشان دکھائے گا کیونکہ دنیا نے اُس کے نشانوں کو قبول نہیں کیا اور ہنسی ٹھٹھا کیا۔ عجیب حالت زمین کی ہے گویا مر گئی۔ کوئی شخص تقویٰ کی آنکھ سے نہیں دیکھتا کہ کہاں تک حقیقت کھل گئی ہے۔ تکذیب کی طرف جھک گئے ہیں اور خدا کے نشانوں سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں صرف قصے ہیں اور خُدا کے چمکتے ہوئے نشانوں پر اُن قصوں کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے میں دیکھتا ہوں کہ دنیا کی یہ علامات ردّی ہیں۔ نہ معلوم کیا ہونے والا ہے کہ دل سخت ہو گئے اور آنکھیںؔ اندھی ہو گئیں اور خوفِ خدا جاتا رہا پر میرے خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ بعد اس کے اور نشان ہیں جو قیامت کا نمونہ ہیں۔ کاش لوگ سمجھتے اور آنے والے قہر سے بچ جاتے خدا نے فرمایا کہ ایک اور قیامت برپا ہوئی یعنی ہوگی ۲۷؍اپریل ۱۹۰۷ء تھی جب یہ الہام ہوا۔ نشاں کو دیکھ کر انکار کب تک پیش جائے گا ارے اِک اور جھوٹوں پر قیامت آنے والی ہے یہ کیا عادت ہے کیوں سچی گواہی کو چھپاتا ہے تری اک روز اے گستاخ شامت آنے والی ہے تِرے مکروں سے اے جاہل مِرا نقصاں نہیں ہر گز کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے بدل دے جو میں کہتا ہوں کہ عزت مجھ کو اور تجھ پر ملامت آنے والی ہے بہت بڑھ بڑھ کے باتیں کی ہیں تونے اور چھپایا حق مگر یہ یاد رکھ اِک دن ندامت آنے والی ہے خدا رُسوا کرے گا تم کو میں اعزاز پاؤں گا سنو اے مُنکرو اب یہ کرامت آنے والی ہے خدا ظاہر کرے گا اِس نشاں پر رعب پر ہیبت دلوں میں اس نشاں سے استقامت آنے والی ہے خدا کے پاک بندے دوسروں پرہوتے ہیں غالب مری خاطر خدا سے یہ علامت آنے والی ہے