دونوں مدت تک میرے پاس آتے رہے ہیں اور بہت سے نشان آسمانی ہیں جو انہوں نے بچشم خود دیکھے ہیں وہ میرے اُن تمام نشانوں کے گواہ ہیں جن کے وجود سے شبھ چنتک کے ایڈیٹر و منتظم قطعی انکاری ہو کر مجھ کو مکار اور مفتری قرار دیتے ہیں۔ اگر میں ایسا ہی کاذب اور مکار ہوں تو یہ دونوں قسم کھا جائیں کہ ہم نے یہ نشان نہیں دیکھے۔ سو آج تک اُنہوں نے قسم نہیں کھائی مگر ان تینوں کے بارے میں یعنی سوم راج اور اچھر چند اور بھگت رام کی نسبت جو کچھ مجھے خدا سے معلوم ہوا میں نے اس رسالہ میں لکھ دیا۔ چنانچہ منجملہ ان کے ایک دُعا ہے جو اسی رسالہ کے ٹائیٹل پیج کے صفحہؔ دوسرے میں لکھی گئی اور وہ شعر یہ ہیں:۔ موت لیکھو بڑی کرامت ہے پر سمجھتے نہیں یہ شامت ہے میرے مالک تو ان کو خود سمجھا آسماں سے پھر اِک نشان دکھلا اس شعر کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے چاہا گیا ہے کہ لیکھرام کی موت کی طرح خدا قادیان کے آریوں پر عذاب کے طور پر کوئی نشان ظاہر کرے۔ پھر اسی رسالہ کے صفحہ ۲۱ و ۲۲ میں مَیں نے یہ پیشگوئی ان لوگوں کے حق میں کی کہ یہ لوگ ان نبیوں کی تکذیب میں جن کی سچائی سورج کی طرح چمکتی ہے حد سے بڑھ گئے ہیں۔ خدا جو اپنے بندوں کے لئے غیر ت مند ہے ضرور اس کا فیصلہ کرے گا۔ وہ ضرور اپنے پیارے نبیوں کے لئے کوئی ہاتھ دکھلائے گا... خدا اُن کا اور ہمارا فیصلہ کرے اور پھر اسی کتاب کے صفحہ ۵۳ سے ۵۴ تک پیشگوئی کے طور پر اخبار شبھ چنتک کے ایڈیٹر وغیرہ کی نسبت یہ شعر ہیں:۔ کہنے کو وید والے پر دل ہیں سب کے کالے پردہ اُٹھا کے دیکھو ان میں بھرا یہی ہے فطرت کے ہیں درندے مُردار ہیں نہ زندے ہر دم زباں کے گندے قہر خدا یہی ہے دینِ خدا کے آگے کچھ بن نہ آئی آخر سب گالیوں پر اُترے دل میں اُٹھا یہی ہے شرم و حیا نہیں ہے آنکھوں میں اُن کے ہر گز وہ بڑھ چکے ہیں حد سے اب انتہا یہی ہے ہم نے ہے جس کو مانا قادر ہے وہ توانا اُس نے ہے کچھ دِکھانا اُس سے رجا یہی * ہے یہ پیشگوئی سوم راج وغیرہ شبھ جنتک منتظمین کے متعلق ہے * منشی اللہ دتا سابق پوسٹ ماسٹر قادیان حال کلرک ڈاکخانہ امرتسر ہیڈ آفس بنام شیخ یعقوب علی ایڈیٹر اخبار الحکم مندرجہ ذیل خط