اصلیت طشت ازبام کرنے کا ذمہ اُٹھانے والا ایک ہی پرچہ شبھ چنتک ہے۔ مرزا قادیانی بد اخلاق۔ شہرت کا خواہاں۔شکم پرور ہے۔ اور پھر پرچہ ۲۲؍مئی ۱۹۰۶ء میں میری نسبت لکھتا ہے۔ کمبخت کمانے سے عار رکھنے والا۔ مکر اور فریب اور جھوٹ میں مشّاق۔ اور پھر پرچہ ۲۲؍دسمبر ۱۹۰۶ء میں لکھتا ہے ہم ان کی چالاکیوں کو ضرور طشت ازبام کریں گے اور ہمیں امید بھی ہے کہ ہم اپنے ارادہ میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ اور پرچہ ۲۲؍دسمبر ۱۹۰۶ء میں لکھا ہے مرزا مکّار اور جھوٹ بولنے والا ہے مرزا کی جماعت کے لوگؔ بد چلن اور بد معاش ہیں۔ غرض ہر ایک پرچہ اُن کا ناپاک گالیوں سے بھرا ہوا نکلتا رہا ہے۔ میں نے کئی مرتبہ جناب الٰہی میں دعائیں کیں کہ خدا اس اخبار کے کارکنوں کو نابود کرکے اس فتنہ کو درمیان سے اُٹھا دے چنانچہ کئی مرتبہ مجھے یہ خبر دی گئی کہ خدا تعالیٰ ان کی بیخ کنی کرے گا۔ زیادہ تر میرے پر ناگوار یہ امر تھا کہ چونکہ یہ لوگ قادیان میں رہتے تھے اس لئے ان کے قرب مکانی کی وجہ سے ان کے جھوٹ کو بطور سچ کے دیکھا جاتا تھا۔ چنانچہ اُنہوں نے خود بھی اپنے اخبار یکم مارچ ۱۹۰۷ء میں محض دھوکا دینے کے لئے یہ شائع کیا ہے کہ ہم نے... پندرہ سال تک متواتر پہلو بہ پہلوایک ہی قصبہ میں اُن کے ساتھ رہ کر اُن کے حال پر غور کی تو اتنی غور کے بعد ہمیں یہی معلوم ہوا کہ یہ شخص درحقیقت مکّار۔ خود غرض، عشرت پسند، بدزبان وغیرہ وغیرہ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو لوگ پندرہ سال کی ہمسایگی کا دعویٰ کرکے یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص درحقیقت مکّار اورمُفتری ہے ایسے لوگوں کی گواہی کا کس قدر دلوں پر اثرپڑ سکتا ہے۔ پھر اسی پرچہ میں لکھا ہے کہ نشان تو ہم نے اس مدت تک کوئی نہیں دیکھا البتہ یہ دیکھا ہے کہ یہ شخص ہر روز جھوٹے الہام بناتا ہے ایک لاثانی بیوقوف ہے۔ پس یہی باعث تھا کہ مجھے ان لوگوں کے حق میں بد دعائیں کرنی پڑیں۔ آخر میں نے ایک رسالہ لکھا جس کا نام ہے قادیان کے آریہ اور ہم اس رسالہ کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ قادیان کے دو آریہ جن میں سے ایک کا نام شرمپت اور دوسرے کام نام ہے ملاوامل یہ