مگر جو وجود لوگوں کے لئے مفید ہے میں اُس کو دیر تک رکھوں گا۔ تجھے ایسا غلبہ دیا جائے گا جس کی تعریف ہوگی اور کاذب کا خدا دشمن ہے اُس کو جہنم میں پہنچائے گا۔ ایک موسیٰ ہے میں اُس کو ظاہر کروں گا اور لوگوں کے سامنے اُس کو عزت دوں گا۔ لیکن جس نے میرا گناہ کیا ہے میں اُس کو گھسیٹوں گا اور اُس کو دوزخ دکھلاؤں گا۔ میرا دشمن ہلاک ہو گیا اور اب معاملہ اُس کا خدا سے جا پڑا یعنی ہلاک ہو جائے گا۔ اے چاند اور اے سورج تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے عنقریب خدا تجھے وہ انعام دے گا کہ تو راضی ہو جائے گا۔
یہ وہ الہامات ہیں جو عصائے موسیٰ کے الہامات شائع ہونے کے بعد مجھ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس چھ برس کی مدت میں ہوئے جب سے کتاب عصائے موسیٰ تصنیف ہو کر شائع ہوئی ہے ۔ اسی ؔ وقت سے یہ الہامات شروع ہوئے اور یہ سب الہامات بابو صاحب کی موت سے پہلے کے ہیں۔ اب ناظرین عصائے موسیٰ کے الہامات اور اُن الہامات کا مقابلہ کرکے خود ہی بتلاویں کہ انجام کاریہ الہامات سچے ہوئے یا بابو الٰہی بخش صاحب کے الہام سچے ہوئے۔ ایک منصف کے لئے تو یہ مقابلہ کافی ہے۔ اسی سے سچا جھوٹا معلوم ہو جاتا ہے اور اگر نیّت میں صفائی نہیں تو ایسے شخص کا فیصلہ خدا تعالیٰ خود کرے گا۔
نشان نمبر۱۹۹ و ۲۰۰ و ۲۰۱۔ قادیان کے آریوں نے محض مجھے دُکھ دینے اور بد زبانی کرنے کے لئے ایک اخبار قادیان میں نکالا تھا جس کا نام شبھ چنتک رکھا تھا اور ایڈیٹر اور منتظم اس کے تین آدمی تھے۔ ایک کا نام سو مراج،دوسرے کا نام اچھرچند، تیسرے کا نام بھگت رام تھا۔ ان تینوں کی موت سے خدا کے تین نشان ظاہر ہوئے یہ تینوں نہایت درجہ موذی اور ظالم تھے۔
جس شخص نے اُن کے اخبار شبھ چنتک کے چند پرچے دیکھے ہوں گے وہ اس بات کا اقرار کرے گا کہ یہ تمام پرچے بد زبانی اورگند اور افتراسے بھرے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اخبار مذکور کے پرچہ ۲۲؍اپریل ۱۹۰۶ء میں میری نسبت لکھا ہے کہ یہ شخص خود پرست ہے نفس پرست ہے فاسق ہے فاجر ہے۔ اس واسطے گندی اور ناپاک خوابیں اس کو آتی ہیں۔
پھر پرچہ ۱۵؍مئی ۱۹۰۶ء میں لکھا ہے۔ قادیانی مسیح کے الہاموں اور اس کی پیشگوئیوں کی