بابؔ چہارم اپنے حالات کے بیان میں یعنی اس بات کے بیان میں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم نے مجھے ان اقسام ثلاثہ میں سے کِس قسم میں داخل فرمایا ہے خدا تعالیٰ اِس بات کو جانتا ہے اور وہ ہر ایک امرپر بہتر گواہ ہے کہ وہ چیز جو اُس کی راہ میں مجھے سب سے پہلے دی گئی وہ قلبِ سلیم تھا۔ یعنی ایسا دل کہ حقیقی تعلق اُس کا بجُز خدائے عزّوجلّ کے کسی چیز کے ساتھ نہ تھا۔ مَیں کسی زمانہ میں جوان تھا اور اَبْ بوڑھا ہوا۔ مگر مَیں نے کسی حصہ عمر میں بجز خدائیعزّوجلّ کسی کے ساتھ اپنا حقیقی تعلق نہ پایا۔ گویا رُومی مولوی صاحب نے میرے لئے ہی یہ دو شعر بنائے تھے: ؂ من زِ ہر جمعیّتے نالاں شُدم جُفتِ خوشحالان و بدحالان شُدم ہر کسے از ظنِّ خود شد یارِ من و از درونِ من نجست اسرارِ من اگرچہ خدا نے کسی چیز میں میرے ساتھ کمی نہیں رکھی اور اس درجہ تک ہر ایک نعمت اور راحت مجھے عطا کی کہ میرے دل اور زبان کو یہ طاقت ہرگز نہیں کہ مَیں اُس کا شکر ادا کر سکوں تا ہم میری فطرت کو اُس نے ایسا بنایا ہے کہ مَیں دنیا کی فانی چیزوں سے ہمیشہ دل برداشتہ رہا ہوں۔ اور اُس زمانہ میں بھی جبکہ مَیں اِس دنیا میں ایک نیا مسافر تھا اور میرے بالغ ہونے کے ایّام ابھی تھوڑے تھے۔ مَیں اِس تپشِ محبت سے خالی نہیں تھا جو خدائے عزّوجلّ سے ہونی چاہئے اور اِسی تپشِ محبت کی وجہ سے مَیں ہرگز کسی ایسے مذہب پر راضی نہیں ہوا۔ جس کے