عقاؔ ئد خدا تعالیٰ کی عظمت اور وحدانیت کے برخلاف تھے یا کسی قسم کی توہین کو مستلزم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائی مذہب مجھے پسند نہ آیا کیونکہ اس کے ہر قدم میں خدائے عزّوجلّ کی توہین ہے۔ ایک عاجز انسان جو اپنے نفس کی بھی مدد نہ کر سکا اُس کو خدا ٹھہرایا گیا اور اُسی کو خَالِقُ السَّمٰوات والارضسمجھا گیا۔ دنیا کی بادشاہت جو آج ہے اور کل نابود ہوسکتی ہے اُس کے ساتھ ذلّت جمع نہیں ہو سکتی۔ پھر خدا کی حقیقی بادشاہی کے ساتھ اتنی ذلّتیں کیوں جمع ہو گئیں کہ وہ قید میں ڈالا گیا اُس کو کوڑے لگے اور اُس کے مُنہ پر تھوکاگیا۔ اور آخر بقول عیسائیوں کے ایک *** موت اُس کے حصہ میں آئی جس کے بغیر وہ اپنے بندوں کو نجات نہیں دے سکتا تھا * کیا ایسے کمزور خدا پر کچھ بھروسہ ہو سکتا ہے اور کیا خدا بھی ایک فانی انسان کی طرح مَر جاتا ہے اور پھر صرف جان نہیں بلکہ اُس کی عصمت اور اُس کی ماں کی عصمت پر بھی یہودیوں نے ناپاک تُہمتیں لگائیں اور کچھ بھی اُس خدا سے نہ ہو سکا کہ زبردست طاقتیں دکھلا کر اپنی بریّت ظاہر کرتا۔ پس ایسے خدا کا ماننا عقل تجویز نہیں کر سکتی جو خود مصیبت زدہ ہونے کی حالت میں مر گیا اور یہودیوں کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکا اور یہ کہنا کہ اُس نے عمداً اپنے تئیں صلیب پر چڑھایا تا اُس کی اُمت کے گناہ بخشے جائیں اِس سے زیادہ کوئی بیہودہ خیال نہیں ہوگا۔ جس شخص نے تمام رات یہ بات کہ اس *** موت پر مسیح خود راضی ہو گیا تھا اِس دلیل سے ردّ ہو جاتی ہے کہ مسیح نے باغ میں رو رو کر دعاکی کہ وہ پیالہ اُس سے ٹل جائے اور پھر صلیب پر کھنچنے کے وقت چیخ مار کر کہا کہ ایلی ایلی لما سبقتنی یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تونے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ اگر وہ اس صلیبی موت پر راضی تھا تو اُس نے کیوں دعائیں کیں اور یہ خیال کہ مسیح کی صلیبی موت خدا تعالیٰ کی طرف سے مخلوق پر ایک رحمت تھی اور خدا نے خوش ہو کر ایسا کام کیا تھا تا دنیا مسیح کے خون سے نجات پاوے تو یہ وہم اِس دلیل سے ردّ ہو جاتا ہے کہ اگر درحقیقت اُس دن رحمت الٰہی جوش میں آئی تھی تو کیوں اُس دن سخت زلزلہ آیا یہاں تک کہ ہیکل کا پردہ پھٹ گیا اور کیوں سخت آندھی آئی اور سورج تاریک ہو گیا۔ اِس سے تو صریح معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ مسیح کو صلیب دینے پر سخت ناراض تھا جس کی وجہ سے چالیس۴۰ برس تک خدا نے یہودیوں کا پیچھا نہ چھوڑا اور وہ طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا رہے۔ اوّل سخت طاعون سے ہلاک ہوئے اور آخر طیطوس رومی کے ہاتھ سے ہزاروں یہودی مارے گئے۔ منہ