خویش اپنے خویش کے لئے ایسی غیرت دکھلا نہیں سکتا۔ اپنے علم میں سے اُس کو علم دیتا ہے اور اپنی عقل میں سے اُس کو عقل بخشتا ہے اور اُس کو اپنے لئے ایسا محو کر دیتا ہے کہ دوسرے تمامؔ لوگوں سے اُس کے تعلقات قطع ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ خدا کی محبت میں مَر کر ایک نیا تولّد پاتے ہیں اور فنا ہو کر ایک نئے وجود کے وارث بنتے ہیں۔ خدا اُن کو غیروں کی آنکھ سے ایسا ہی پوشیدہ رکھتا ہے جیسا کہ وہ آپ پوشیدہ ہے۔ مگر پھر بھی اپنے چہرہ کی چمک اُن کے مُنہ پر ڈالتا ہے اور اپنا نور اُن کی پیشانی پر برساتا ہے جس سے وہ پوشیدہ نہیں رہ سکتے۔ اور اُن پر جب کوئی مصیبت آوے تو وہ اُس سے پیچھے نہیں ہٹتے بلکہ آگے قدم بڑھاتے ہیں اور اُن کا آج کا دن کل کے دِن سے جو گذرگیا معرفت اور محبت میں زیادہ ہوتا ہے اور ہر ایک دم محبتانہ تعلق اُن کا ترقی میں ہوا کرتا ہے اور اُن کی شدّتِ محبت اور توکل اور تقویٰ کی وجہ سے اُن کی دُعائیں ردّ نہیں ہوتیں اور وہ ضائع نہیں کی جاتیں کیونکہ وہ خدا کی رضا جوئی میں گُم ہو جاتے ہیں اور اپنی رضا ترک کر دیتے ہیں اِس لئے خدا بھی اُن کی رضا جوئی کرتا ہے۔ وہ نہاں درنہاں ہوتے ہیں دنیا اُن کو شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور چلے جاتے ہیں اور اُن کے بارے میں سر سری رائیں نکالنے والے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ نہ دوست اُن کی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے نہ کوئی دشمن کیونکہ وہ احدیّت کی چادر کے اندر مخفی ہوتے ہیں۔ کون اُن کی پوری حقیقت جانتا ہے مگر وہی جس کے جذباتِ محبت میں وہ سرمست ہیں۔ وہ ایک قوم ہے جو خدا نہیں مگر خدا سے ایک دم بھی الگ نہیں۔ وہ سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والے۔ سب سے زیادہ خدا سے وفاکرنے والے۔ سب سے زیادہ خدا کی راہ میں صدق اور استقامت دکھلانے والے۔ سب سے زیادہ خدا پر توکل کرنے والے۔ سب سے زیادہ خدا کی رضا کو ڈھونڈنے والے۔ سب سے زیادہ خدا کا ساتھ اختیار کرنے والے۔ سب سے زیادہ اپنے ربّ عزیز سے محبت کرنے والے ہیں اور تعلق باللہ میں اُن کا اُس جگہ تک قدم ہے جہاں تک انسانی نظریں نہیں پہنچتیں اِس لئے خدا ایک ایسی خارق عادت نصرت کے ساتھ اُن کی طرف دوڑتا ہے کہ گویا وہ اور ہی خدا ہے اور وہ کام اُن کے لئے دکھلاتا ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی کسی غیر کے لئے اُس نے دکھلائے نہیں۔