اور خدا تعالیٰ اُن کو ایک لمبی عمر عطا کرے گا اور وہ تمام تباہیاں میری بچشم خود دیکھیں گے اور املاک اور باغ اُن کو دیئے جائیں گے اور ایک دنیا اُن کی طرف رجوع کرے گی۔ یہ الہامات قریباً ایک برس کے ہیں جومیری مخالفت میں بابو صاحب نے شائع کئے لیکن بعداس ؔ کے جو بابو صاحب کی موت تک تخمیناً چھ ۶برس کے الہامات تھے وہ کسی مصلحت سے مخفی رکھے گئے ہیں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ جس شخص کے ایک برس کے الہامات اِس قدر ہیں چھ۶ برس کے کس قدر ہوں گے۔ مگراب اِن الہامات کے شائع ہونے کی نسبت بالکل نومیدی ہے کیونکہ جیسا کہ میں ہمیشہ سنتا رہا وہ سب میری نامرادی اور موردِ عذاب ہونے کے متعلق تھے۔ اب جبکہ خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا تو اُن کے دوست ایسے الہامات کو کیوں شائع کرنے لگے یقیناًوہ فی الفور بلا توقف آگ میں رکھ کر جلا دیئے ہوں گے۔ اور اگر وہ نہیں جلائے گئے تو منشی عبد الحق صاحب جو اُن کے اوّل رفیق تھے قسم کھا کر بیان کریں کہ کیا کتاب عصائے موسیٰ کی تالیف کے بعد سلسلہ الہامات کا قطعاً بندہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ چھ برس تک ایک الہام بھی نہ ہوا۔ کاش اگر وہ باقی ماندہ الہامات شائع کئے جاتے تو اور بھی حقیقت کھل جاتی۔ جن لوگوں کو محض نفسانی خیال سے میرے ساتھ ضِد آپڑی ہے وہ ایسی راہ ہر گز اختیار نہ کریں گے جس سے سچائی ظاہر ہو جائے مگر خدا نہیں چھوڑے گا جب تک سچائی ظاہر نہ کرے۔ اگر میں کاذب اورمُفتری ہوں تو میرا بھی ایسا ہی خاتمہ ہوگا جیسا کہ بابو الٰہی بخش کا خاتمہ ہوا۔ لیکن اگر خدائے عزّوجلّ میرے ساتھ ہے تو ایسی حالت میں مجھے ہلاک نہیں کرے گا کہ میرے آگے بھی *** ہو اور پیچھے بھی کیونکہ صادقوں کے ساتھ قدیم سے اُس کی یہی سُنت ہے کہ وہ اُن کو ضائع نہیں کرتا اگرچہ لوگ صادق کے درمیانی زمانہ میں اپنی ناسمجھی سے اس پر اعتراض کریں اور اس کی نسبت کئی نکتہ چینیاں کریں مگر آخر کار صادق کا بَری ہونا خدا تعالیٰ ظاہرکر دیتا ہے۔ اس اندھی دنیا نے کس نبی کو اپنی نکتہ چینی سے مستثنیٰ رکھا ہے یہودی اب تک کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کی ایک پیشگوئی بھی پوری نہیں ہوئی بادشاہی کا دعویٰ کیا مگر بادشاہی نصیب نہ ہوئی۔ یہود اسکریوطی کو بہشت کا تخت دیا آخر وہ وعدہ بھی صحیح نہ نکلا۔ اس زمانہ میں ہی واپس آنا بتلایا تھا وہ بات بھی غلط ثابت ہوئی۔ یہ ہیں اعتراض یہودیوں اور مُلحدوں کے