گویاؔ میں نے دعویٰ مسیح موعود کرکے خدا پر افتراکیا ہے تو میں ہلاک ہو جاؤں گا) اور اگر خدا تعالیٰ کے علم میں کوئی ایسا امر ہے جو اس بدظنی کے برخلاف ہے تو وہ امر روشن ہو جائے گا (یعنی اگر خدا تعالیٰ کے علم میں درحقیقت میں مسیح موعود ہوں تو خدا تعالیٰ میرے لئے کوئی گواہی دے گا) اور میں وعدہ کرتاہوں کہ نعوذ باللہ میری طرف سے نہ کوئی آپ پر نالش ہوگی اور نہ کوئی کسی قسم کا بے جا حملہ آپ کی وجاہت و شان پر ہوگا۔ صرف خدا تعالیٰ سے عقدہ کشائی چاہوں گا (یعنی یہ چاہوں گا کہ اگر میں مفتری نہیں ہوں اور میرے پر یہ جھوٹا اور ظالمانہ حملہ ہے تو میری بریت ہو۔ بابو صاحب کی تکذیب کے لئے خدا آپ کوئی امر نازل کرے کیونکہ بریت کی خواہش کرنا سُنتِ انبیاء ہے جیسا کہ حضرت یوسف نے خواہش کی۔‘‘ اور صادق کو بری کر دینا خدا کی قدیم سُنت ہے*۔
یہ وہ میرا خط ہے جو بابو صاحب کی کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۵ اور ۶ و ۷ میں درج ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس خط میں بھی مَیں نے خدا تعالیٰ سے فیصلہ چاہا تھا پھر بعد اس کے جو فیصلہ خدا تعالیٰ نے کیا وہ ظاہر ہے کہ ایک طرف خدا تعالیٰ نے ہر ایک پہلو سے مجھے ترقی دی اور دوسری طرف بابو الٰہی بخش صاحب کو عین ناکامی کی حالت میں دنیا سے اُٹھا لیا اور وہ صدہا حسرتوں کے ساتھ بمرض طاعون گذر گئے۔ کیا اُس کا دل چاہتا تھا کہ وہ طاعون سے مر جائیں اور پھر میری زندگی میں مگر خدا نے ایسا کیا۔
دوسرا امر منصفین کے لئے غور کے لائق یہ ہے کہ بابو الٰہی بخش صاحب نے میرے مقابل پر جو ذخیرہ ایک برس کے الہامات کا اُن کے پاس تھا سب اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں شائع کر دیا جن کا خلاصہ یہی ہے کہ گویا میں نامراد اور ناکام رہ کر انجام کار بابو صاحب کی زندگی میں ہی طاعون کے ساتھ ہلاک ہو جاؤں گا اور بڑی بڑی تباہیاں میرے پر آئیں گی اور ملاعنہ اور مباہلہ کا بد اثر میرے پر پڑ کر مجھ کو ہلاک کر دے گا بر خلاف اس کے بابو صاحب کی بڑی بڑی ترقی ہوگی
* آج سے چھبیس۲۶ برس پہلے میری کتاب براہین احمدیہ میں یہ الہام شائع ہو چکا ہے میری نسبت خدا تعالیٰ اشارہ کرکے فرماتا ہے کہ جیسے پہلے موسیٰ پر جھوٹے الزام لگائے گئے تھے اس موسیٰ پر بھی یعنی اِس عاجز پر بھی جھوٹے الزام لگائے جاویں گے مگر خدا اس کو بَری کرے گا الہام کی عبارت یہ ہے۔ فبرّأہ اللّٰہ ممّا قالوا و کان عند اللّٰہ وجیھا۔ کیا بابو صاحب کی وفات سے یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ منہ