جو حضرت عیسیٰ کی پیشگوئیوں پر کرتے ہیں اور عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے ہیں۔ پس ضرور تھا کہ مجھ پر کئے جاتے لیکن خدا نے میرے ہزار ہانشانوں سے ؔ میری وہ تائید کی ہے کہ بہت ہی کم نبی گزرے ہیں جن کی یہ تائید کی گئی۔ لیکن پھر بھی جن کے دلوں پر مہریں ہیں وہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اُٹھاتے* ۔
بابو الٰہی بخش کے دوستوں کے لئے یہ روشن نشان تھا کہ بابو صاحب تواپنی کتاب عصائے موسیٰ میں میری نسبت بار بار یہی الہام ظاہر کر گئے کہ میں ان کی زندگی میں ہی طاعون کے عذاب کے ساتھ مروں گا اور تباہی اور ادبار میرے شامل حال ہو جائے گا مگر برخلاف ان کے الہاموں کے خدا نے میرے ساتھ معاملہ کیا اور اپنی پیشگوئیوں سے اُس نے مجھے تسلّی دی کہ وہ مجھے غالب کرے گا اور میری صداقت ظاہر کر دے گا۔ یہ عجیب بات ہے کہ جب بابو الٰہی بخش صاحب اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں اپنے الہامات کے ذریعہ سے میری نسبت سخت سے سخت الفاظ کے ساتھ شائع کر چکے کہ یہ شخص مردود درگاہ الٰہی ہے اور خدا کہتا ہے کہ میں اُس کو طاعون سے ہلاک کروں گا اور وہ تباہ اور ذلیل اور ناکام ہو کر مرے گا تب خدا نے جو اپنے بندوں کے لئے غیرت مند ہے چھ۶ برس تک برابر اُن کے الہامات کے مخالف میرے پر اپنے تسلی بخش الہام ظاہر فرمائے اور نہ صرف اس قدر بلکہ ساتھ ساتھ زبردست نشان دکھلاتا رہا اور خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت کی پیشگوئیاں درحقیقت دو حصوں پر مشتمل ہیں۔ ایک تو وہ پیشگوئیاں ہیں جو میری کتاب براہین احمدیہ میں درج ہیں اور کچھ بعد اس کے میری دوسری کتابوں میں درج ہو کر شائع ہوئیں۔ اور یہ پیشگوئیاں بابو صاحب کی کتاب عصائے موسیٰ کے وجود سے سالہا سال پہلے کی ہیں۔ اور دوسرا حصہ پیشگوئیوں کا وہ ہے
* خدا تعالیٰ نے ہزارہا زبردست نشان دکھلا کر دشمنوں کے منہ پر طمانچے مارے ہیں مگر عجیب بے حیا مُنہ ہیں کہ اس قدر طمانچے کھا کر پھر سامنے آتے ہیں اگر ایک لاکھ نشان دیکھیں تو اس سے بھی فائدہ نہیں اُٹھاتے اور اگر ایک بات سمجھ نہ آوے تو شور مچا دیتے ہیں دراصل ان کے دل ہر ایک نبی سے برگشتہ ہیں کیونکہ کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جو اِن کے فہم کے مطابق ہو۔ منہ