ہے ؔ اوروہ بھی مدت ہوئی کہ شائع ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے یعنی جو لوگ مجھ سے سچی اور کامل محبت رکھتے ہیں وہ بھی طاعون سے محفوظ رہیں گے چہ جائیکہ مَیں۔
بالآخر ایک منصف انسان کے لئے بابو الٰہی بخش صاحب کے معاملہ میں دو باتیں بہت توجہ کے لائق ہیں۔
اوّل یہ امر غور کرنے کے لائق ہے کہ جب بابو الٰہی بخش صاحب مجھ سے برگشتہ ہو کر میرے بر خلاف اور میری تکذیب میں اپنے دوستوں کو اپنے الہام سُنانے لگے تو اُس وقت میری طرف سے اِس امر کے فیصلہ کے لئے کیا درخواست ہوئی تھی۔ سو وہ درخواست بابو صاحب کی کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۵و۶ میں درج ہے جس کو پڑھ کر ناظرین معلوم کر سکتے ہیں کہ وہ درخواست درحقیقت مباہلہ کے رنگ میں تھی یا یوں کہو کہ وہ صدق دل سے حضرت جلّ شانہٗ کے فیصلہ کے لئے ایک دعا تھی جس کی وہ عبارت جو مطلب سے متعلق ہے ذیل میں لکھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے:۔
’’چونکہ مجھے آسمانی فیصلہ مطلوب ہے یعنی یہ مُدّعا ہے کہ تا لوگ ایسے شخص کو شناخت کرکے جس کا وجود حقیقت میں اُن کے لئے مفید ہے راہِ راست پر مستقیم ہو جائیں اور تا لوگ ایسے شخص کو شناخت کر لیں جو درحقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے امام ہے اور ابھی تک یہ کس کو معلوم ہے کہ وہ کون ہے صرف خدا کو معلوم ہے یا اُن کو جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بصیرت دی گئی ہے اس لئے یہ انتظام کیا گیا ہے (یعنی یہ کہ بابو صاحب اپنے وہ تمام الہامات جو میری تکذیب کے متعلق ہیں شائع کر دیں) پس اگر منشی صاحب کے الہامات درحقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو وہ الہام جو میری نسبت اُن کو ہوئے ہیں اپنی سچائی کا کوئی کرشمہ ظاہر کریں گے (یعنی ضرور ان کے بعد میرے پر کوئی تباہی اور ہلاکت آئے گی) اور اس طرح پر یہ خلقت جو واجب الرحم ہے مُسرف کذّاب سے نجات پا جائے گی۔ (یعنی جبکہ بابو صاحب مجھ کو کذّاب خیال کرتے ہیں کہ