پر جس نے میرا گناہ کیا ہے مَیں اُس کو گھسیٹوں گا اور اُس کو دوزخ دکھلاؤں گا میرے نشان روشن ہو جائیں گے۔ میرا دشمن ہلاک ہو گیا یعنی ہلاک ہو جائے گا۔ ہُن اُس دا لیکھا خدا نال جا پیا ہے۔ خدا نے اس جگہ میرا نام موسیٰ رکھا جیسا کہ آج سے چھبیس برس پہلے براہین احمدیہ کے کئی مقامات میں میرا نام موسیٰ رکھا گیا۔ خلاصہ الہام یہ ہے کہ اس زمانہ میں موسیٰ ایک ہی ہے دو۲ نہیں ہیں اور وہ جودوسرا موسیٰ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ کاذب ہے اور پھر فرمایا کہ وہ جو میری طرف سے موسیٰ ہے وقت آگیا ہے کہ مَیں اُس کو ظاہر کروں اور لوگوں میں اُس کو عزّت دوں۔ پر جس نے میرا گناہ کیا ہے یعنی محض دروغگوئی کے طور پر موسیٰ بنا ہے میں اُس کو گھسیٹوں گا۔ یعنی ذلّت دکھلاؤں گا اور ذلّت کی موت دوں گا اور اُس کو دوزخ دِکھلاؤں گا یعنی وہ طاعون میں مبتلا ہو کر مرے گا۔ یہ پیشگوئی پوری تصریح کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی کیونکہ اُس زمانہ میں میرے مقابل پر موسیٰ ہونے کا دعویٰ کرنے والا صرف بابو الٰہی بخش تھا جس کو خدا نے طاعون سے ہلاک کیا اور ان کی بیماری اور موت سے پہلے عام طورپر اخبار بدر اور الحکم کے ذریعہ ہزاروں انسانوں میں یہ الہام الٰہی شائع کیا گیا۔ آخر ایسا ہی ظہور میںآیا۔ یاد رہے کہ میرے تمام الہامات میں جہنم سے مُراد طاعون ہے۔ پس یہ عظیم الشان پیشگوئی تھی جس میں پیش از وقت بتلایا گیا تھا کہ بابو الٰہی بخش صاحب طاعون سے فوت ہوں گے۔ نمونہ کے طور پر ذکرکرتا ہوں کہ جہنم سے مُراد میری الہامات میں طاعون ہے جیسا کہ ایک مُدّت گذری کہ ایک الہام مجھے ہو چکاہے اور وہ مع تشریح بدر او ر الحکم میں شائع ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے۔ یأتِی علٰی جہنّم زمان لیس فیھااحد اس کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ ایک زمانہ طاعون پر ایسا آئے گا کہ اس ملک میں ایک بھی نہ ہوگا کہ اس میں داخل ہو۔ یعنی عام طور پر خدا لوگوں کو اس بلا سے نجات دے دے گا۔ اور پھر ایک اور الہام ہے جس میں آگ سے مُراد طاعون