میںؔ مشغول رہا ہے اور وہی خوف ترقیات کا موجب ہوتا رہاہے خدا فرماتاہے 33 ۱؂ پس ہر ایک ابن آدم اپنے اندرایک حیض کی ناپاکی رکھتا ہے مگر وہ جو سچے دل سے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے وہی حیض اُس کا ایک پاک لڑکے کا جسم تیار کر دیتا ہے۔ اِسی بنا پر خدا میں فانی ہونے والے اطفال اللہ کہلاتے ہیں لیکن یہ نہیں کہ وہ خدا کے درحقیقت بیٹے ہیں کیونکہ یہ تو کلمۂ کفر ہے اور خدا بیٹوں سے پاک ہے بلکہ اس لئے استعارہ کے رنگ میں وہ خدا کے بیٹے کہلاتے ہیں کہ وہ بچہ کی طرح دلی جوش سے خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ اِسی مرتبہ کی طرف قرآن شریف میں اشارہ کرکے فرمایا گیا ہے 3 3 ۲؂ یعنی خدا کو ایسی محبت اور دلی جوش سے یاد کرو جیسا کہ بچہ اپنے باپ کو یاد کرتا ہے۔ اِسی بنا پر ہر ایک قوم کی کتابوں میں اَب یا پِتَا کے نام سے خدا کو پکارا گیا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کو استعارہ کے رنگ میں ماں سے بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یہ کہ جیسے ماں اپنے پیٹ میں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کے پیارے بندے خدا کی محبت کی گود میں پرورش پاتے ہیں اور ایک گندی فطرت سے ایک پاک جسم اُنہیں ملتاہے۔ سو اولیاء کو جو صوفی اطفال حق کہتے ہیں یہ صرف ایک استعارہ ہے ورنہ خدا اطفال سے پاک اور 3 ۳؂ ہے۔ اور یہ جو مذکورہ بالاالہامات میں فقرہ ہے فَقُلْنَا یَا نَارُکُوْنِیْ بَردًا اِس فقرہ سے یہ مُراد ہے کہ جو کچھ بابو الٰہی بخش نے اپنی کتاب سے لوگوں میں فتنہ کی آگ بھڑکا دی ہے ہم اس آگ کو ٹھنڈی کر دیں گے۔ سو بابو الٰہی بخش کی موت نے ان تمام پیشگوئیوں کو پوری کر دیا۔ الحمدلِلّٰہ علٰی ذالک۔ دوسری پیشگوئی بابو الٰہی بخش صاحب کی موت کے بارے میں وہ ہے جو ۱۵؍مارچ ۱۹۰۷ء میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو کر بدر اور الحکم میں شائع ہو چکی ہے اور وہ یہ ہے۔ ایک موسیٰ ہے میں اُس کو ظاہر کروں گااور لوگوں کے سامنے اُس کو عزّت دوں گا